سوال 7669
السلام علیکم!
شیخ محترم زندہ بندے کی طرف سے عمرہ کر سکتے ہیں؟
دوسرا سوال یہ ہے کے فوت شدہ کے لیے عمرہ کر سکتے ہیں اکٹھا مطلب جتنے احباب ہماری فیملی کے فوت ہو گئے ان سب کے لیے اکٹھا ایک عمرہ ہو سکتا ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عمرہ کرنے والا اگر پہلے اپنا عمرہ کر چکا ہو تو اس کے بعد زندہ یا فوت شدہ شخص کی طرف سے عمرہ کر سکتا ہے۔
زندہ شخص کی طرف سے عمرہ اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے جب وہ سفر کے قابل نہ ہو اور آئندہ بھی کبھی سفر نہیں کر سکے گا، یعنی ہمیشہ کے لیے محتاج ہو۔ اس صورت میں اس کی طرف سے عمرہ ہو جائے گا۔ اسی طرح فوت شدہ شخص کی طرف سے بھی عمرہ کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ عمرہ کرنے والا پہلے اپنا عمرہ کر چکا ہو۔
البتہ یہ ضروری ہے کہ زندہ اور فوت شدہ دونوں موحد ہوں، کیونکہ عقائد اور اعمال موحد ہی کے قابلِ قبول ہیں، بصورتِ دیگر کوئی فائدہ نہیں۔
اسی طرح ایک شخص کی طرف سے ایک ہی عمرہ کیا جائے گا۔ ایک ہی عمرے میں بیک وقت دس افراد کی نیت کرکے عمرہ کرنا جائز نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




