سوال 7435

کسی شخص نے اللہ سے شعوری طور پر یہ وعدہ کیا کہ وہ فلاں کام (جو فی نفسہ جائز ہے،کھیل ہے یا کچھ اور) فلاں وقت پر نہیں کرے گا بعد میں وہ وقت بدلنا چاہتا ہے۔ یعنی وعدے میں ترمیم کرنا چاہتا ہے۔اب وہ کیا کرے اللہ سے وعدہ کر چکا ہے؟

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے وعدے پر حسب توفیق اور حسب استطاعت حسب طاقت قائم اور دائم رہے اللہ سے توفیق مانگے۔
اللہ سے توفیق مانگتا رہے ہر چیز کا فتویٰ نہیں لینا چاہیے نہ ہر بات پر فتویٰ دینا چاہیے۔ انسان اپنی زندگی میں جلوتوں میں، خلوتوں میں بہت کچھ کر گزرتا ہے۔ پھر لوٹ آتا ہے پھر کر گزرتا ہے۔ اس کا معاملہ اس کے رب کے ساتھ ہے۔ وہاں ہم سے گنجائشیں طلب نہ کریں۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: ان کا مقصد یہ تھا کہ اور نذر/قسم کا کفارہ جو ہوتا ہے وہ دے دیا جائے؟
جواب: نہیں وعدے میں یہ چیز نہیں آتی۔ یا وہ کہیں کہ میں نے قسم اٹھائی تھی یا میں نے نذر مانی تھی۔ پھر ٹھیک ہے۔ وعدہ اور چیز ہے البتہ (ان العہد کان مسؤولا).

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ