سوال 7375
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
قنوت میں جو دعا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللّٰہ عنہ پڑھا کرتے تھے، اللھم انا نستعینک ۔
یہ مکمل دعا ترجمہ اور حوالے کے ساتھ مطلوب ہے ۔
جزاکم اللہ خیرا کثیرا
جواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته قنوت نازلہ، بعد از رکوع جو پڑھی جاتی ہے، اس میں یہ دعا سیدنا عمر سے ثابت ہے
اللهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَلِلْمُؤْمِنِينَ، وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ، وَأَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَانْصُرْهُمْ عَلَى عَدُوِّكَ وَعَدُوِّهِمْ، اللهُمَّ الْعَنْ كَفَرَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيُقَاتِلُونَ أَوْلِيَاءَكِ، اللهُمَّ خَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَزَلْزِلْ أَقْدَامَهُمْ، وَأَنْزِلْ بِهِمْ بَأْسَكَ الَّذِي لَا تَرُدُّهُ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِينَ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِي عَلَيْكَ، وَلَا نَكْفُرُكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، اللهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَلَكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ وَنَخْشَى عَذَابَكَ الْجِدَّ وَنَرْجُو رَحْمَتِكَ إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ
اے اللہ! ہمیں، تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں، مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو بخش دے۔ ان کے دلوں میں باہمی محبت پیدا فرما، ان کے باہمی تعلقات درست کر دے، انہیں اپنے اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں مدد عطا فرما۔
اے اللہ! اہلِ کتاب کے ان کافروں پر لعنت فرما جو تیرے راستے سے روکتے ہیں، تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے جنگ کرتے ہیں۔ اے اللہ! ان کی جماعت میں پھوٹ ڈال دے، ان کے قدم ڈگمگا دے، اور ان پر اپنا وہ عذاب نازل فرما جسے تو مجرم قوم سے نہیں ٹالتا۔
اللہ کے نام سے، جو نہایت مہربان، بے حد رحم کرنے والا ہے۔
اے اللہ! ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں، تجھ ہی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، تیری خوب تعریف کرتے ہیں، تیری ناشکری نہیں کرتے، اور جو تیری نافرمانی کرے اسے چھوڑ دیتے ہیں اور اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔
اللہ کے نام سے، جو نہایت مہربان، بے حد رحم کرنے والا ہے۔
اے اللہ! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے ہی لیے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں، تیری ہی رضا کے لیے کوشش کرتے اور دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ ہم تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں اور تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ یقیناً تیرا عذاب کافروں کو آ کر رہنے والا ہے۔
[كتاب السنن الكبرى للبيهقي : 3143]
امام بیھقي نے صحیح قرار دیا ہے
[السنن الكبرى للبيهقي : 298/2]
ابن ملقن اس روایت کو حسن یا صحیح قرار دیا ہے
[تحفة المحتاج : 410/1]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ


