سوال 7496
کیا انار کو چھلکے سمیت کھانے اور ہر انار میں جنت کے پانی کا ایک قطرہ یا دانہ ہونے سے متعلق روایت صحیح ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب
یہ روایت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا فرمان نہیں ہے بلکہ سیدنا علی المرتضی رضی الله عنہ کے الفاظ ہیں۔
ملاحظہ کریں:
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺧﺜﻴﻢ ﺃﺑﻮ ﻣﻌﻤﺮ اﻟﻬﻼﻟﻲ، ﺣﺪﺛﺘﻨﻲ ﺟﺪﺗﻲ ﺭﺑﻌﻴﺔ اﺑﻨﺔ ﻋﻴﺎﺽ اﻟﻜﻼﺑﻴﺔ، ﻗﺎﻟﺖ: ﺳﻤﻌﺖ ﻋﻠﻴﺎ ﻳﻘﻮﻝ: ﻛﻠﻮا اﻟﺮﻣﺎﻥ ﺑﺸﺤﻤﻪ ﻓﺈﻧﻪ ﺩﺑﺎﻍ اﻟﻤﻌﺪﺓ
مسند أحمد بن حنبل :(23237)
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ، ﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺳﺤﺎﻕ اﻷﺻﺒﻬﺎﻧﻲ، ﻋﻦ ﻋﻴﺴﻰ ﺑﻦ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ اﻟﺒﺮﻛﻲ، ﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻣﻌﻤﺮ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺧﺜﻴﻢ، ﻋﻦ ﺟﺪﺗﻪ؛ ﻗﺎﻟﺖ: ﺳﻤﻌﺖ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻳﻘﻮﻝ: ﺇﺫا ﺃﻛﻠﺘﻢ اﻟﺮﻣﺎﻥ؛ ﻓﻜﻠﻮﻩ ﺑﺸﺤﻤﻪ؛ ﻓﺈﻧﻪ ﺩﺑﺎﻍ ﻟﻠﻤﻌﺪﺓ
المجالسة للدينورى:(634) شیخ مشھور بن حسن نے اس پر حسن کا حکم لگایا ہے۔
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺜﻤﺎﻥ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻳﻌﻠﻰ اﻟﻤﻮﺻﻠﻲ، ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﺧﺜﻴﻢ، ﻋﻦ ﺟﺪﺗﻪ ﺭﺑﻴﻌﺔ ﻗﺎﻟﺖ: ﺳﻤﻌﺖ ﻋﻠﻴﺎ ﻳﻘﻮﻝ: ﻛﻠﻮا اﻟﺮﻣﺎﻥ ﺑﺸﺤﻤﻪ ﻓﺈﻧﻪ ﺩﺑﺎﻍ اﻟﻤﻌﺪﺓ
الطب النبوي لأبي نعيم الأصبهاني :(365)
اور دیکھیے۔ شعب الإيمان للبيهقى :(5557) ،المشيخة البغدادية لأبي طاهر السلفي:(32) ،غاية المقاصد في زوائد المسند :(4164)
ربیعہ بنت عیاض كوفية کو امام عجلی نے ثقة تابعية کہا اور ابن حبان نے الثقات میں ذکر کیا یوں یہ روایت حسن لذاتہ درجہ کی ہے۔
کوئی بھی روایت تحقیق کے بغیر شیئر نہیں کرنی چاہیے ہے۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




