سوال 7587
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم! ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا۔ ہم مغرب کی نماز باجماعت ادا کرنے کے لیے اذان کے وقت سے جماعت کھڑی ہونے تک تقریباً 15 منٹ انتظار کرتے ہیں۔ کیا مغرب کی نماز میں اس طرح تقریباً 15 منٹ تاخیر سے جماعت کھڑی کرنا شرعاً نماز کو لیٹ کرنا شمار ہوگا؟ یا مغرب کی نماز کے لیے اتنا وقت انتظار کرنا جائز ہے؟
جزاکم اللہ خیراً
جواب
وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته
اذان اور جماعت میں اتنا فاصلہ رکھیں کہ لوگ جمع ہو سکیں، اذان کے پندرہ منٹ بعد جماعت کروانا لیٹ نماز ادا کرنا تو نہیں ہے، اگر اذان صحیح وقت پر دی جاتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ، أَوْ قَالَ: عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ إِلَى أَنْ تَشْتَبِكَ النُّجُومُ
میری امت ہمیشہ بھلائی یا فطرت پر رہے گی جب تک وہ مغرب میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ ستارے چمکنے لگ جائیں
[سنن ابی داؤد حدیث نمبر : 418]
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ




