سوال 7589
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم! جب مؤذن اقامت کہتا ہے تو مقتدی کو اقامت شروع ہوتے ہی کھڑا ہونا چاہیے، درمیان میں، یا آخر میں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
جزاکم اللہ خیراً
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اقامت سن کر اٹھ جائے تو بھی ٹھیک ہے۔ البتہ حدیث کے ظاہری الفاظ یہ ہیں:
«لَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي»
نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تک مجھے نہ دیکھ لو، کھڑے نہ ہوا کرو۔
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا حجرہ مبارک ساتھ ہی تھا۔ جب آپ وہاں سے خروج کرتے، نکلتے اور اپنے مصلے، امامت کی طرف جا رہے ہوتے، اسی اثناء میں اقامت ہوتی اور اسی اثناء میں لوگ کھڑے ہو جاتے تھے۔
لہٰذا پہلے سے لوگ کھڑے رہتے ہیں، گھڑیاں دکھاتے ہیں، اشارے کرتے ہیں، یہ غلط ہے۔
البتہ اقامت کے دوران، اقامت کے ساتھ، یا امام کو مصلے کی طرف بڑھتا ہوا دیکھ کر اگر کھڑے ہوتے ہیں تو پھر درست ہے۔ ان شاء اللہ، اس میں کوئی سختی نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمة الله و برکاته
مقتدیوں کے اٹھنے کا تعلق امام کو دیکھنے سے ہے، امام کو آتا دیکھیں تو کھڑے ہوجائیں۔
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي
”جب نماز کی اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے آتا نہ دیکھ لو۔“
[صحیح البخاري حدیث نمبر : 637]
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ




