سوال 7588
جہری نماز جنازہ میں صرف فاتحہ ہی بلند آواز سے پڑھانی جائز ہے، درود شریف اور دعاؤں کا اس حدیث میں کوئی ذکر نہیں؟
جواب
دعاؤں میں جہر کرنا ثابت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جنازہ کی دعا اتنی بلند آواز میں پڑھی یہاں تک کہ صحابی رسول ﷺ کہتے ہیں میں نے وہ دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی اور سن کر میں نے یہ تمنی اور خواہش کی کہ کاش یہ میرا جنازہ ہوتا۔
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَاعْفُ عَنْهُ وَعَافِهِ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ، وَاغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ، وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ، وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ
حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اس میت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کی وجہ سے میں نے تمنا کی کہ کاش وہ میت میں ہوتا!
[صحیح مسلم حدیث نمبر : 2234]
مزید دلائل بھی موجود ہیں
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ




