سوال 7590
علماء کرام! قرآن و حدیث کی روشنی میں غسلِ جنابت کا صحیح اور مکمل مسنون طریقہ بیان فرما دیں۔ بالخصوص غسل کے آغاز، وضو، پورے جسم پر پانی بہانے، فرض و سنت کے فرق اور نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ طریقۂ غسل کی وضاحت دلائل کے ساتھ فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیرا
جواب
1 : کسی بھی عمل سے قبل نیت ضروری ہے، اس ہی طرح غسل جنابت سے قبل بھی نیت ضروری ہے
(صحیح البخاری حدیث نمبر: 1)
فائدہ: نیت دل کے ارادے کا نام ہے، زبان سے الفاظ ادا کرنے کو نیت نہیں کہتے
2 : بیت الخلاء میں داخل ہونے کی دعا پڑھیں:
“اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ”
ترجمہ: اے اللہ! میں نر اور مادہ خبیث جنات سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں
(صحیح البخاری حدیث نمبر: 6322)
فائدہ: یہ الفاظ بیت الخلاء میں داخل ہونے کے ہیں، چاہے آپ کا ارادہ قضائے حاجت کا ہو، یا غسل وغیرہ کا نہ بھی ہو، پھر بھی یہ دعا پڑھیں۔
3 : دونوں ہاتھ دھو لیں۔
4 : پھر دائیں ہاتھ سے پانی لیں اور اس کو بائیں ہاتھ میں ڈال لیں اور اس سے اپنی شرم گاہ کو دھو لیں۔
5 : بائیں ہاتھ کو اچھی طرح دھو لیں
(صحیح البخاری حدیث نمبر: 259)
6 : نماز جیسا وضو کریں
(صحیح البخاری حدیث نمبر: 249)
فائدہ: وضو کیلئے بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے، بے شک آپ بیت الخلاء میں ہی ہیں، لیکن بسم اللہ ضرور پڑھیں گے۔ نیز صرف بسم اللہ پڑھیں گے، بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں
7 : نماز والا وضو جاری رکھیں، جب آپ مسح پر پہنچیں، تو اپنی انگلیوں کو اچھی طرح تر کر کے بالوں کی جڑوں میں داخل کریں یہاں تک کہ آپ کو غالب گمان ہو جائے کہ بال تر ہو چکے ہیں، تو تین چلو پانی اپنے سر پر بہا لیں، یہ غسل میں مسح کا طریقہ ہے
(صحیح البخاری حدیث نمبر: 248)
فائدہ: غسل میں نماز کی طرح مسح کرنا درست نہیں کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے غسل کے طریقے میں فرمایا: جب سر تک پہنچے تو مسح نہ کرے بلکہ سر پر پانی ڈالے
(سنن نسائی حدیث نمبر: 422)
8 : سارے جسم پر پانی بہائیں یعنی جیسے آپ نہاتے ہیں نہا لیں
9 : آخر میں پاؤں دھو لیں
(صحیح البخاری حدیث نمبر: 249)
چند اہم امور :
1 : اگر بسم اللہ پڑھنا بھول گئے ہیں اور دورانِ وضو یاد آیا، تو تب پڑھ لیں
2 : وضو کے اندر داڑھی کا خلال کرنا لازمی ہے، اس لیے جن حضرات کو اللہ رب العالمین نے داڑھی جیسی نعمت سے نوازا ہے، ان پر داڑھی کا خلال کرنا بھی ضروری ہے
(سورۃ المائدۃ آیت نمبر: 6، سنن ابن ماجہ حدیث نمبر: 429)
3 : وضو کے دوران ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا بھی لازمی ہے کیونکہ نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے
(سنن نسائی حدیث نمبر: 114)
4 : گردن کا مسح کرنا ثابت نہیں
5 : جو حضرات انگوٹھی پہننے کی سنت پر عمل کرتے ہیں ان کیلئے ضروری ہے کہ وہ انگوٹھی کو غسل سے قبل اتار دیں کیونکہ کسی بھی حصے کے خشک رہ جانے سے ان کا وضو اور غسل نہیں ہوگا
(صحیح مسلم حدیث نمبر: 576، سنن ابی داؤد حدیث نمبر: 249)
6 : دورانِ غسل کوئی ضروری بات چیت کرنا جائز ہے
(صحیح البخاری حدیث نمبر: 357)
7 : دورانِ غسل اگر آپ کا ہاتھ براہِ راست شرم گاہ کو نہیں لگا، آپ کا وضو نہیں ٹوٹا، تو آپ کو دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں، نیز آپ اس وضو سے نماز ادا کر سکتے ہیں
8 : ایک وضو سے کئی نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں بشرطیکہ آپ کا وضو قائم ہو
(صحیح مسلم حدیث نمبر : 642)
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ




