سوال 7511

السلام علیکم و رحمۃ الله و برکاته
محترم ایک عالمہ بھن کا سوال ہے جو کہ ماشاءاللہ قرآن وحدیث کے فہم میں بہت قابل ہے، وہ کہتی ہے کہ میں چاہتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے دین اسلام کی عظیم خدمات لے لیں اور میں دین اسلام کی دعوت میں نشر واشاعت میں عظیم خدمات کروں تو اس سلسلے میں مجھے کون کونسے آداب شرائط اور امور وغیرہ اپنانا چاھیئے؟

جواب

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
جس شعبہ میں زیادہ ماہر ہیں
اس میں داخل ہو جائیں:
(1) : جیسے تدریس حدیث، تدریس قرآن کریم، تدریس تفسیر، فقہ وغیرہ
(2) : دعوت وتبلیغ کا کام اور یہ صرف خواتین تک محدود ہو
یعنی خاندان،محلہ کی خواتین تک بس۔
اس سے آگے کی وہ مکلف نہیں ہے ۔
(3) کسی کتاب کا ترجمہ،فوائد،یا مستقل کوئی کتاب لکھ دیں ابتداء میں کوئی مضمون لکھنا شروع کریں جو قرآن کریم،صحیح احادیث،آثار سلف صالحین سے مزین ہو اور اس کی نظر ثانی کسی پختہ عالم دین سے کروا لیں ۔
(4) خواتین کے عقائد ونظریات
ٹھیک کرنے پر خوب محنت کریں اور یہاں پر حکمت و دانائی سے کام کریں ۔
(5) اگر دنیاوی طور پر مالی حالات بہت بہتر ہیں تو پہلے دو کے بعد تیسرے نمبر کو ترجیح دیں یا اشاعت قرآن وحدیث میں مال خرچ کریں.
باقی دعوت دین کے کام میں شرعی حدود و قیود کا خیال رکھیں اور حسن اخلاق کے ساتھ اخلاص نیت کو مقدم رکھیں۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ اس میں صرف دو نمبر کو ہٹا دیجیے باقی اللہ آپ کو جزائے خیر دے باتیں بالکل ٹھیک ہیں۔ خاتون کی ذمہ داری دعوت اور تبلیغ کی نہیں ہوتی اور آپ یہ جو کہہ رہے ہیں یہ صرف خواتین تک محدود ہو تو یہ تدریس کے ذریعے سب کچھ ہو سکتا ہے۔ بس دعوت اور تبلیغ دین اسلام نے کسی خاتون کو داعیہ نہیں بنایا ہے۔ مدرس تدریس میں آ سکتی ہے، تربیت میں آ سکتی ہے، تصنیف و تالیف میں آ سکتی ہے۔ یہ جتنے بھی جائز معاملات ہیں خاتون خانہ کے لیے اس میں وہ آ سکتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
الله يبارك فيك ويرضيك ويعافيك
دکتور محترم خواتین داعیہ نہیں ہوئیں اس کے متعلق تو میں نے چند سال پہلے مجلس التحقيق الاسلامي میں بھی گذارشات لکھی تھیں.
کہ وہ سوشل میڈیا کا بطور داعیہ استعمال یا غیر محرم کے سامنے سفر کر کے دعوت وتبلیغ کا کام نہیں کر سکتی ہیں ۔
کیونکہ انبیاء کرام علیھم السلام میں کوئی عورت نبی و رسول نہیں ہوئی ایسے امام و داعیہ مقرر نہیں کی گئی ہے ۔
رہا معاملہ خواتین تک تو یہ شرعی حدود و قیود میں رہ کر کر سکتی ہے اگرچہ یہ اس پر واجب نہیں ہے۔

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ