سوال 7293

السلام علیکم و رحمۃ اللہ محترم علمائے کرام ایک عورت نے پردے میں اپنی والدہ کی میت کو کندہ دیا اور جنازہ بھی پڑھا اور دفنانے میں بھی حصہ لیا اس میں کوئی گناہ تو نہیں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ہماری معلومات کے مطابق جنازہ تو پڑھ سکتی ہے بہتر ہے کہ وہ مردوں کے پیچھے ہی پڑھے لیکن اگر الگ سے اہتمام ہو گیا ہے تو جنازہ تو پڑھ سکتی ہے اس طریقے سے لیکن کندھا دینا قبر یا قبر میں اتارنا یہ سارا مردوں کا ہی کام ہے انہی کو یہ کام کرنا چاہیے بعض روایتوں میں صراحت بھی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ہمیں اتباع الجنائز سے منع فرمایا یعنی جنازوں کے ساتھ جانے سے منع فرمایا تو وہی مراد ہے اٹھا کے لے جانے سے منع فرمایا تو عمومی طور پہ 1500 سال سے یہ مردوں کا ہی عمل رہا ہے الا یہ کہ مرد مفقود ہو جائیں اب ایسا تو نہیں کہ مرد ہیں ہی نہیں۔ تو بلا وجہ ایک نئے مسئلے کا دروازہ کھولنا۔ ویسے یہ بات بڑھتی جا رہی ہے ہمارے ہاں ہمارے علاقے میں عورت ہے وہ آج کل مفتی بنی ہوئی ہے وہ فتوے دے رہی ہے وہ رقیہ تو کر ہی رہی ہے جن بھوت تو اتار ہی رہی ہے جھوٹ چھٹ اور دجل کے ساتھ۔ فتوے دے رہی ہے باقاعدہ وہ تحریراً فتوے دے رہی ہے لوگوں کو۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ