سوال 7532

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ قاری صاحب،
میری بہن کا ایک مسئلہ ہے، براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
میری بہن کی شادی ہوئی تھی۔ شادی سے پہلے ان کے شوہر نے ان سے کہا تھا کہ میں آپ کو اپنی ایک اندرونی/ذاتی بات پہلے ہی بتا دیتا ہوں کہ میں آپ کے ساتھ زیادہ اٹھنا بیٹھنا نہیں کروں گا۔ میری بہن نے یہ بات قبول کر لی اور یہ سوچ کر شادی کر لی کہ کم از کم اسے رہنے کے لیے چھت مل جائے گی، کیونکہ ان کے والدین نہیں ہیں اور وہ غریب ہیں۔
لیکن شادی کے بعد ان دونوں کی آپس میں نہیں بنی، جھگڑا ہوا اور کچھ عرصے بعد شوہر نے انہیں طلاق دے دی۔ ازدواجی تعلق بھی قائم نہیں ہوا تھا اور نہ ہی ان کا میاں بیوی والا اٹھنا بیٹھنا ہوا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا میری بہن پر طلاق کے بعد عدت کرنا ضروری ہے، یا چونکہ ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا تھا اس لیے عدت نہیں ہے؟
اور اگر عدت کرنا ضروری ہو تو ایک اور مسئلہ ہے کہ ان کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ فی الحال وہ اپنی بیوہ بہن کے گھر رہ رہی ہیں، جنہوں نے انہیں اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ ایسی صورت میں اگر عدت لازم ہے تو وہ عدت کے دوران اپنی ضروریاتِ زندگی کے لیے کیا کر سکتی ہیں؟ کیا وہ ملازمت کر کے اپنا خرچ خود اٹھا سکتی ہیں، اور کن شرائط کے ساتھ گھر سے نکل سکتی ہیں؟
براہِ کرم اس مسئلے کی مکمل وضاحت فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگرچہ عمومی طور پر جو بات کتابوں میں لکھی گئی ہے، وہ یہ ہے:

«إِذَا أُغْلِقَ الْبَابُ وَأُرْخِيَ السِّتْرُ فَقَدْ وَجَبَ الْمَهْرُ وَالْعِدَّةُ»

یعنی اگر زن و شوہر دروازہ بند کر لیں، کنڈی لگا لیں اور پردہ گرا لیں تو ظاہر سی بات ہے کہ خلوت ہو گئی، لہٰذا حقِ مہر اور عدت واجب ہو جائے گی۔
لیکن ایک دفعہ یہ مسئلہ آیا تھا تو میں نے خود بڑے مشائخ سے استفسار کیا۔ کچھ موجود ہیں اور کچھ رخصت ہو گئے، اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمائے۔ انہوں نے فرمایا کہ حدیثِ عسیلہ جو ہے، وہ اس معاملے میں فیصلہ کن حدیث ہے۔ لہٰذا جب تک صحبت اور دخولِ صحیح نہیں ہو جاتا، اس وقت تک عدت لازم نہیں آتی اور عورت غیر مدخولہ ہی شمار ہوگی۔
ایک رائے تو یہ ہے، جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ عدت واجب ہے۔
اب اگر عدت واجب قرار دی جائے تو یہ مطلقہ کی عدت ہے، متوفیٰ زوجہ کی عدت نہیں۔ مطلقہ کی عدت کے احکام نسبتاً نرم اور ہلکے ہیں۔ فتویٰ اگرچہ دوسرے قول پر دیا جاتا ہے، لیکن اس میں، ان شاء اللہ، ایسی سختی نہیں ہے۔
لہٰذا اگر وہ دن کے اوقات میں اپنی کوئی نوکری یا ملازمت کرنا چاہتی ہیں تو کر سکتی ہیں، لیکن پردے کے ساتھ اور فتنے سے خود کو محفوظ رکھتے ہوئے۔
اور باقی، سوال سے یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ یہ مدد مانگنے والا مرد ہے یا عورت۔ اگر وہ بہن ہے تو بہن کی مدد کرنی چاہیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شادی کے بعد رخصتی اور میاں بیوی میں خلوت اور علیحدگی ہوئی ہے تو عدت گزارنا لازم ہے، اگرچہ وہ کہیں کہ ہم نے مباشرت نہیں کی۔
لہذا یہ عورت تین حیض عدت گزاریں گی، اگر ان کا کمانے والا کوئی نہیں تو یہ اپنی ضروریات زندگی کے لیے باہر آ جا سکتی ہیں اور جاب وغیرہ کر سکتی ہیں۔ دورِ نبوت سے اس کے شواہد ملتے ہیں، جیسا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :

“طُلِّقَتْ خَالَتِي، فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا، فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ، فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي، أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا”. [مسلم:1483]

’میری خالہ کو طلاق دے دی گئی تھی، انہوں نے اپنے باغ کی کھجوریں اتارنے کا ارادہ کیا، ليكن انہیں گھر سے باہر نکلنے پر ایک شخص نے ڈانٹا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں! تم اپنے باغ کی کھجوریں توڑ لاؤ، ہوسکتا ہے کہ تم اس میں سے صدقہ دو یا کوئی اور نیکی کرو‘۔
واللہ اعلم۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ