سوال 7428
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم علماء و مشایخ ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہے ایک ساس نے اپنی وفات سے قبل اپنا ایک لاکٹ اپنی بہو کو دے دیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ ’’یہ تمہارا ہے یا میری وفات کے بعد فلاں وارث کو دے دینا بس لاکٹ اسے پکڑا دیا ساس کے انتقال کے کچھ عرصے بعد اس کے شوہر کو معلوم ہوا کہ لاکٹ بہو کے پاس ہے انہوں نے لاکٹ واپس مانگا، مگر بہو نے یہ کہہ کر دینے سے انکار کردیا کہ ’’ماں جی نے مجھے دیا تھا‘ اس معاملے پر گھر میں شدید اختلاف اور لڑائی جھگڑا پیدا ہوگیا ہے۔
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں لاکٹ کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا محض لاکٹ کسی کو پکڑا دینے سے ہبہ ثابت ہوجاتا ہے، یا اسے مرحومہ کے ترکے میں شمار کیا جائے گا؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر ساس کے ورثاء موجود ہوں، یعنی بیٹے اور بیٹیاں ہوں، تو پھر وہ اپنی زندگی میں کسی وارث کو اس طرح اپنا مال نہیں دے سکتی کہ اس کے بعد دوسرے ورثاء کے حقوق ختم ہو جائیں۔
البتہ اگر اس نے اپنی وفات سے قبل یہ لاکٹ کسی کو دینے کی وصیت کی تھی، تو ایک تہائی (ثلث) مال تک اس وصیت کی گنجائش ہے، بشرطیکہ وہ کسی وارث کے حق میں نہ ہو۔
لہٰذا اگر مرحومہ کا مزید مال بھی موجود ہے اور یہ لاکٹ یا اس کی قیمت کل مال کے ایک تہائی کے اندر اندر ہے، تو اسے وصیت سمجھ کر دیا جا سکتا ہے، اور باقی مال وراثت کے طور پر تقسیم کر دیا جائے۔
اور اگر لاکٹ کی مالیت ایک تہائی سے زیادہ بنتی ہے تو صرف ایک تہائی تک اسے دیا جائے گا، جبکہ باقی حصہ ترکے میں شامل کیا جائے گا۔
لیکن اگر مرحومہ کے پاس لاکٹ کے علاوہ کوئی اور مال نہیں تھا، تو پھر یہ پورا ترکہ ہوگا اور ورثاء کو شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق اس میں حصہ ملے گا۔ محض اس طرح کسی کو لاکٹ پکڑا دینے سے وہ تمام ورثاء کے حق سے خارج نہیں ہو جائے گا۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

