سوال 7440
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماضی میں تیر کے کمان لڑائی اور شکار ہوتا تھا حدیث کے مطابق تکبیر پڑھ کر چلائے گئے تیر سے کیا گیا شکار حلال ہے، اب تیر کمان کا دور نہیں رہا اس کی جگہ بندوق نے لے لی ہے، تو کیا اگر تکبیر پڑھ کر بندوق سے فائر کیا جائے تو اس زد میں آ کر گرنے والے پرندوں اور جانوروں کا کیا حکم ہے۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
ہماری معلومات کے مطابق دور جدید کے جتنے بھی ہتھیار ہیں ان سے بھی شکار کیا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ بسم اللہ پڑھ کے فائر کیا جائے اور وہی شرط پوری ہو جو حدیث میں ہے کہ نیزہ اور تیر جو ہے وہ اس طرح گوشت کو کراس کر جائے۔ خون بہہ جائے، گوشت پھٹ جائے وہ شرط پوری ہو جاتی ہے تزکیہ کی تو ٹھیک ہے، جائز ہے۔
مزید یہ لنک دیکھیں:
حكم الصيد بالبندقية – الإسلام سؤال وجواب https://share.google/o4R4SYKcTi1HzFFfC
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

