سوال 7454

بینک کارڈ سے پیمنٹ پر کہیں کہیں 20 ۔10 پرسنٹ آف ملتا ہے۔۔۔۔۔کیا اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بینک سے سود کا کوئی لین دین نہیں ہے۔ بس پیسے ادھر ادھر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کارڈ بڑا ہے؟ میرے شوہر کہ رہے تھے کہ کارڈ کی فیس لیتے ہیں جب بناتے ہیں تب ہی یہ سہولت \رعایت دیتے ہیں؟

جواب

کارڈ سے پیمنٹ پر ملنے والی رعایت کی نوعیت واضح ہونے پر ہی کوئی حکم لگایا جا سکتا ہے۔ بعض دفعہ واقعتا سود ہوتا ہے، لیکن بعض دفعہ کچھ ریسٹورنٹس، شاپنگ مالز وغیرہ صرف اس وجہ سے آفر دیتے ہیں، کیونکہ وہ صارفین کو کیش پیمنٹ کی بجائے کارڈ پیمنٹ پر لانا چاہ رہے ہوتے ہیں، کیونکہ کیش کی بجائے کارڈ ان کے لیے کئی ایک آسانیوں کا ذریعہ بنتا ہے۔
اس قسم کی آفرز لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

کارڈ پیمٹ پر ملنے والی رعایت کا تعلق بنک سے ہے اور نہ ہی شاپنگ سنٹر سے…
یہ رعایت آپ کے GST (گورنمنٹ سیلز ٹیکس) پر ہوتی ہے.

فضیلۃ العالم عرفان شفیق حفظہ اللہ

یہ تو ایک صورت ہے.
باقی بھی ہو سکتی ہیں

فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بینک کے کارڈ پر جو رعایت ملتی ہے، اس کی پہلے تو دو صورتیں ہیں۔

پہلی صورت: بینک جو رقم آپ کو ایک مدت کے لیے دیتا ہے کہ اس مدت کے اندر آپ رقم ادا کر دیں تو آپ پر کوئی سود نہیں لگے گا۔ وہ تو خیر ہے ہی سودی ادارہ اور سود ہی کی بنیاد پر وہ آپ کو رقم دیتا ہے، لیکن شرط یہ رکھی ہے کہ آپ، مثلاً ایک مہینے کے اندر، رقم خرچ کرکے واپس جمع کرا دیں تو اضافی رقم نہیں دینی ہوگی۔ البتہ سروس چارج وغیرہ وہ لیتے ہیں۔ لیکن اگر آپ ایک دن بھی تاخیر کریں تو اس پر سود لگ جاتا ہے۔
اس لیے ایسا کارڈ رکھنا ہی شرعاً درست نہیں ہے۔ جو مال آپ کے پاس ہے، جتنی گنجائش ہے، اتنا ہی خرچ کریں۔

دوسری صورت: آپ کا اپنا پیسہ ہے اور آپ چیک کی جگہ کارڈ کی صورت میں اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس میں ظاہر ہے کہ آپ بینک سے صرف کارڈ کی شکل میں اپنی رقم استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے اگر اس پر کوئی رعایت ملتی ہے تو بظاہر اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
لیکن یہاں بھی یہ چیز مدنظر رکھنی ہوگی کہ بینک چونکہ سودی ادارہ ہے، اس لیے اگر اس فائدے سے آپ بچ سکتے ہیں تو حتی الامکان بچنا چاہیے۔ یعنی آپ کے پاس نقد رقم ہے اور کسی کو نقد دے سکتے ہیں تو اسی کو ترجیح دیں۔ آپ بینک میں رقم جمع کراتے ہیں، دو چار دن بعد بینک کے ذریعے وہ رقم بھی نکلواتے ہیں، یعنی لین دین سب بینک کے ذریعے ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ آپ بینک میں پیسے رکھواتے اور نکلواتے ہیں، اسی قدر ان کو فائدہ ہوتا ہے، اور وہ چاہتے ہی یہی ہیں۔
لہٰذا اس سے بھی جتنا ممکن ہو سکے اجتناب کرنا چاہیے، سوائے امرِ مجبوری کے کہ اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالحنان سامرودی حفظہ اللہ