سوال 7287

ایک بندے نے ایک پلاٹ سیل کیا اس کی قیمت نقد لینی ہے، جس نے خریدا وہ بنک سے لون لے کر ان کو قیمت ادا کرے گا اب بینک اس پلاٹ کو کلیئر کرنا چاہتی ہے وہ ہم سے اسکی NOC مانگتا ہے، اگر یہ دیتے ہیں تو اس کو قرض ملے گا اگر نہیں دیتے تو اسے قرض نہیں ملے گا.
اب اسے شرعی طور پہ بتائیں کیا انکو NOC دے دینی چاہئے ان کا بینک سے کوئی تعلق صرف اس بندے سے جس نے جگہ خریدی؟

جواب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
دیکھیں! اگر معاملہ واقعی اس طرح ہے کہ فروخت کرنے والے نے اپنا پلاٹ جائز طور پر فروخت کر دیا ہے، اور خریدنے والا اپنی مرضی سے بینک سے قرض لے کر اس کی قیمت ادا کرنا چاہتا ہے، جبکہ بینک صرف ملکیت (Ownership) کی تصدیق کے لیے NOC مانگ رہا ہے، تو اس صورت میں فروخت کرنے والے کا بینک کے ساتھ نہ کوئی قرض کا معاہدہ ہے، نہ سودی لین دین، اور نہ ہی وہ خریدنے والے کے لیے کوئی ضمانت دے رہا ہے، بلکہ صرف یہ تصدیق کر رہا ہے کہ پلاٹ فروخت ہو چکا ہے اور اس پر کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ہے۔
میری رائے کے مطابق، اصولاً ایسی NOC دینا جائز ہے، کیونکہ NOC دینا بذاتِ خود سودی معاہدے میں شریک ہونا نہیں، بلکہ صرف درست معلومات کی تصدیق کرنا ہے۔
البتہ اس میں دو باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
1. اگر NOC صرف ملکیت کی تصدیق پر مشتمل ہو، اور اس میں سودی قرض کی ضمانت، کفالت یا اس معاہدے کا فریق بننے کی کوئی بات نہ ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
2. لیکن اگر NOC پر دستخط کرنے کا مطلب یہ ہو کہ آپ بینک کے قرض کی ضمانت دے رہے ہیں یا سودی معاہدے میں شریک بن رہے ہیں، تو پھر ایسا کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔
لہٰذا، صرف ملکیت کی تصدیق اور NOC جاری کرنا، جبکہ بینک سے قرض لینا خریدار کا اپنا عمل ہے، تو بظاہر NOC جاری کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
البتہ ہمارے ایک ساتھی کی اس حوالے سے ایک رائے تھی، وہ بھی عرض کر دیتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بیچنے والے کو معلوم ہو جائے کہ خریدنے والا کسی غلط مقصد کے لیے پلاٹ خرید رہا ہے، تو ایسی صورت میں اسے فروخت نہیں کرنا چاہیے۔ اسی سے وہ یہ استنباط بھی کرتے تھے کہ اگر خریدنے والا سودی قرض کے ذریعے پلاٹ خرید رہا ہو تو بھی اسے فروخت نہیں کرنا چاہیے۔
بہرحال، اس رائے پر مجھے انشراحِ صدر نہیں تھا، اس لیے میں نے اپنی رائے بیان کر دی ہے۔
مزید احتیاط کے لیے شیخ عبدالوکیل ناصر صاحب اور شیخ عبدالرزاق گھمن صاحب حفظہما اللہ سے بھی اس مسئلے کی تائید، یا اگر اس میں کوئی غلطی ہو تو اس کی اصلاح کروائی جا سکتی ہے۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اللہ تعالیٰ برکت دے ڈاکٹر صاحب کو بہترین جواب دیا ہے ڈاکٹر صاحب حفظہ اللہ نے جس ساتھی کا یہ سوال ہے امید ہے کہ انہیں شرح صدر ہوگیا ہوگا۔ صرف تصدیق کی خاطر اگر این او سی دیتے ہیں پھر تو ٹھیک ہے۔ اس طرح کے معاملات سے جہاں تک ممکن ہو اپنا دامن کو بچانا چاہیے۔ حکم یہی ہے کہ شک کو چھوڑ دو یقین کو لے لو۔ من وقع في الشبهات وقع في الحرام۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اگر تصدیق تک محدود ہے۔ این او سی کا معاملہ پھر ٹھیک ہے۔ البتہ وہ جو شیخ نے آخر میں ایک کسی اور صاحب علم کی رائے بیان کی کہ اس پہ تو ہمارا بھی شرح صدر نہیں ہے۔ البتہ پراپرٹی کی تصدیق کے لیے این او سی دی جاسکتی ہے واللہ اعلم۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ