سوال 7329
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم بینک سے طے شدہ قسط پر گاڑی لینا کیسا ہے۔ اور قسط پر ویسے کسی سے بھی چیز لینا کیسا ہے اگر طے شدہ قسط ہی ہر ماہ دی جائے۔ بعض کہتے ہیں یہ فتنہ فساد ہے اس سے بچنا چاہیے۔
رہنمائی فرمادیں
جواب
السلام علیکم بسم اللہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ قسطوں پر چیز لینے کے بارے میں سوال آیا ہے اگرچہ اہل علم کے مختلف آراء ہیں لیکن صاف شفاف اور واضح موقف یہی ہے کہ یہ درست نہیں۔ اس لیے کہ دنیا کا کوئی بھی بینک آپ کو اس قیمت پر قسطوں پر گاڑی کبھی نہیں دے گا جس قیمت پر نقد ملتی ہے۔ تو ایک سودے کی دو قیمتیں نہیں ہو سکتی اس حدیث کو بنیاد بنا کر بے شمار اہل علم یہی فرماتے ہیں کہ یہ درست نہیں ہے واللہ اعلم۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ
سائل: اگر کسی اور دکاندار سے طے کرلی جائے کہ ماہانہ اتنی قسط دوں جب تک پیسے پورے ہوجائیں موبائل کے۔
نقد میں موبائل 25000 کا ہے جبکہ ہم نے موقع پر طے کرلیا کہ قسطوں میں 30000 ادا کردوں گا میں پورے سال میں۔
تو کیا اس طرح قسط پر موبائل لینا درست ہے؟
جواب: اگر قسط کی وجہ سے ریٹ بڑھایا جائے، مثلاً بائیک ایک لاکھ کی نقد ہے، جبکہ قسط کی وجہ سے ایک لاکھ دس ہزار کی ہے، تو یہ جائز نہیں۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک سودے میں دو سودے کیے تو اس کے لیے ان میں سے یا تو کم قیمت ہے یا سود ہے۔“
(سنن ابي داود حدیث نمبر : 3461)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ہے
(سنن نسائی حدیث نمبر : 4636)
(یہی روایت السنن الكبرى للبيهقي : 10878 پر بھی موجود ہے)
لیکن اس میں کچھ اضافہ ہے، راوی حدیث عبدالوہاب بن عطا کہتے ہیں :
يعني يقول: هو لك بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين
یہ چیز نقد 10 کی ہے، اور ادھار پر 20 کی ہے۔
(السنن الكبرى للبيهقي : 10878)
مزید دلائل بھی موجود ہیں
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ



