سوال 7326

السلام علیکم!
ایک سوال یہ تھا کہ اگر قبر بارش کی وجہ سے بیٹھ جائے اندر پانی چلا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ قبر تبدیل کر دی جائے یا پانی نکال کے اس کو سیٹ کر دیا جائے؟

جواب

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بسم اللہ، و الصلاۃ والسلام علی رسول اللہ ﷺ۔
سوال یہ ہے کہ اگر قبر بارش کی وجہ سے بیٹھ جائے اور اس کے اندر پانی چلا جائے تو کیا کیا جائے؟
میرے عزیز! سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ہم لوگ اکثر سہولت تلاش کرتے ہیں، جبکہ شریعت نے قبر کی ایک مخصوص صورت کی رہنمائی فرمائی ہے۔
قبر کی دو قسمیں ہیں: ایک سیدھی (شق) اور دوسری بغلی (لحد)۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
«اللحد لنا، والشق لغيرنا»
یعنی: “بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور سیدھی قبر دوسروں کے لیے۔”
جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دونوں قسم کے قبر کھودنے والوں کو بلایا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے لیے جسے پسند فرمائے گا، وہ پہلے آ جائے گا۔ چنانچہ بغلی قبر بنانے والا پہلے آ گیا، لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک بغلی بنائی گئی۔
بغلی قبر کے حوالے سے ہمارے ہاں ایک بڑی غلطی کی جاتی ہے، اس پر توجہ دیجیے۔ عام طور پر پہلے سیدھی قبر کھودی جاتی ہے، پھر نیچے جا کر دائیں یا بائیں طرف دیوار میں ایک جگہ کھودی جاتی ہے، اور میت کو وہاں نیچے اتارا جاتا ہے۔ حالانکہ جس انداز سے یہ طریقہ ہمارے ہاں رائج ہے، اس کی یہ صورت ثابت نہیں۔
اگر بغلی قبر صحیح طریقے سے بنائی جائے، نہ کہ اس انداز سے جس طرح عموماً ہمارے ہاں بنائی جاتی ہے، تو ان شاء اللہ قبر کے بیٹھنے کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔
یہ تو آئندہ کے لیے رہنمائی تھی۔
اب رہی بات ان قبروں کی جو پہلے سے بن چکی ہیں اور بارش کی وجہ سے بیٹھ گئی ہیں یا ان میں پانی چلا گیا ہے، تو ایسی صورت میں بہتر طریقہ یہی ہے کہ ان پر مزید مٹی ڈال کر انہیں درست کر دیا جائے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر قبر کھول کر پانی یا مٹی نکالنے کی کوشش کی جائے تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ میت کی کیا کیفیت ہو۔ بسا اوقات ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ میت کی حالت دیکھ کر انسان کئی راتیں سو نہ سکے۔
لہٰذا ایسی صورت میں قبر کو کھولنے کے بجائے اس پر مٹی ڈال کر اسے درست کر دینا زیادہ مناسب ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ