سوال 7429
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم! ایک عورت کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اس نے اپنی زندگی میں کہا تھا کہ میرے نام جو زمین ہے، جو مجھے میرے والدین کی طرف سے ملی تھی، وہ میں اپنے فلاں بھتیجے کو دیتی ہوں۔ اسے اپنی کل زمین کی مقدار معلوم نہیں تھی۔
اس کے بھائی وغیرہ نے ریکارڈ چیک کیا تو معلوم ہوا کہ آٹھ کنال زمین اس بھتیجے کے نام منتقل ہو گئی، جبکہ ایک کنال زمین ایسی تھی جس کا کسی کو علم نہیں تھا۔ بعد میں وہ عورت بھی فوت ہوگئی۔
تقریباً 30، 40 سال بعد اس کے ایک بھائی کا انتقال ہوا اور اس کی وراثت کے سلسلے میں محکمہ مال سے ریکارڈ چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ مرحومہ عورت کے نام ایک کنال زمین مزید باقی تھی۔
اب اس کا ایک زندہ بھائی کہتا ہے کہ اصولاً یہ ایک کنال بھی اسی بھتیجے کے حق میں ہونی چاہیے، کیونکہ مرحومہ نے اپنی زندگی میں واضح طور پر کہا تھا کہ “میری جتنی زمین ہے، میں اپنے بھتیجے کو دیتی ہوں۔” آٹھ کنال زمین تو اسی نیت سے اس کے نام منتقل ہو گئی، باقی ایک کنال کا معلوم نہ ہونا ہماری غلطی ہے، مرحومہ کا قصور نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ ایک کنال زمین بھی اسی بھتیجے کی ہوگی، یا چونکہ وہ مرحومہ کی وفات کے وقت اس کے نام تھی، اس لیے اب وہ اس کا ترکہ شمار ہو کر شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہماری معلومات کے مطابق ایک ثلث، یعنی ایک تہائی کی اجازت ہے۔ بھانجے کو دیں یا بھتیجے کو دیں، جو بھی دیں، اس کی شرط یہ ہے کہ اتنی جائیداد موجود ہو جو ورثاء کے لیے بھی باقی رہے۔
لہٰذا اگر اس نے وصیت جتنی بھی کی ہو، اسے ایک ثلث پر لایا جائے گا۔ باقی جائیداد، اور یہ ایک کنال بھی اسی میں شامل کرکے، شرعی ورثاء کو دی جائے گی۔
البتہ اگر تمام ورثاء اس کی پوری وصیت پر خاموش ہیں، یعنی اس پر راضی ہیں اور یہ ایک کنال بھی اسی کو دینا چاہتے ہیں، تو پھر بھی یہ درست ہو جائے گا؛ کیونکہ ورثاء اپنی رضامندی سے اپنے حق سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔
لیکن اگر ورثاء اس پر راضی نہیں ہیں، تو وہ عورت اپنی پوری جائیداد اپنے بھتیجے کو نہیں دے سکتی تھی۔ وہ صرف ایک ثلث کے اندر اندر وصیت کر سکتی تھی۔ اب اس کی وصیت ایک ثلث تک قابلِ عمل ہوگی، اور باقی ماندہ تمام زمین شرعی اعتبار سے ورثاء میں تقسیم ہوگی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

