فضیلۃ الشیخ مفسرِ قرآن حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کا مختصر تعارف
برصغیر پاک و ہند کی علمی دینی اور دعوتی تاریخ میں بعض اہلِ علم ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے درس و تدریس کے روایتی دائرے سے آگے بڑھ کر قرآن و حدیث کے بیان، عقیدہ و توحید کی دعوت، اصلاح و تربیت، علمی مناظرات، تصنیف و تالیف اور مختلف فکری و لسانی میدانوں میں اپنی خدمات انجام دیں۔ حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ بھی عصرِ حاضر کے انہی اہلِ علم، خطباء، مفسرین اور مصنفین میں شمار ہوتے ہیں۔
آپ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے معروف عالمِ دین، حافظِ قرآن، مفسر، مصنف، خطیب اور مناظر ہیں۔ قرآن و حدیث کے موضوعات پر آپ کے دروس و خطابات ہندوستان کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی معروف رہے ہیں۔ آپ کی علمی و تصنیفی سرگرمیوں میں قرآن و تفسیر، حدیث و علومِ حدیث، عقیدہ و توحید، فقہ، اصولِ فقہ، فرائض، نحو و صرف، بلاغت، منطق، فلسفہ، تاریخِ اہلِ حدیث، اصلاح و تزکیہ، دعوت و تبلیغ اور مختلف زبانوں و لسانیات سے متعلق موضوعات نمایاں ہیں۔آپ کی گفتگو کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ علمی و فکری مسائل کو قرآن و حدیث کے نصوص، عربی متون، احادیث کی اسناد و شواہد، آثارِ صحابہ اور اقوالِ اہلِ علم کی روشنی میں بیان کرتے ہیں۔ آپ کے خطیبانہ اسلوب کے ساتھ عربی حدیث کے متن و سند اور بعض مواقع پر فارسی و سنسکرت اشعار اور ہندوستانی علمی و ثقافتی حوالوں کے استعمال کا بھی علم رکھتے ہیں۔
① نام، نسب اور پیدائش:
آپ کا مکمل نام:جلال الدین بن مطیع اللہ بن دوست محمد چودھری ہے۔
اور آپ کا معروف نام:
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ ہے۔
آپ ہندوستان کی بڑی ریاست اتر پردیش کے صوبہ بستی کے نَوَّا گاؤں (Nawwah Gaon) میں 5 فروری 1964ء بمطابق 20 رمضان المبارک 1383ھ کو پیداہوئے۔
② حفظِ قرآن:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو کم عمری ہی میں حفظِ قرآن کی سعادت عطا فرمائی۔آپ نے ابتدائی تعلیم کے بعد مدرسہ ناصر العلوم، گونڈہ، اتر پردیش میں داخلہ لیا اور تقریباً چھ ماہ کی مدت میں قرآنِ مجید حفظ مکمل کیا۔
اس وقت آپ کی عمر تقریباً گیارہ سال تھی۔
حفظِ قرآن کی یہی نسبت آگے چل کر آپ کی علمی و دعوتی زندگی کی بنیادی شناخت بنی اور آپ ایک حافظِ قرآن، مفسر اور قرآن کے داعی کی حیثیت سے نمایاں ہوئے۔
③ ابتدائی دینی تعلیم:
آپ نے ابتدائی دینی تعلیم جامعہ سراج العلوم، بونڈیہار، ضلع بلرام پور، اتر پردیش سے حاصل کی۔اس کے بعد مدرسہ ناصر العلوم، گونڈہ میں حفظِ قرآن مکمل کیا۔
پھر علمی سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے آپ نے مختلف مدارس و جامعات میں باقاعدہ عربی و اسلامی علوم حاصل کیے۔
آپ کے تعلیمی سفر کی نمایاں کڑیاں درج ذیل ہیں:
1️⃣- جامعہ سراج العلوم، بونڈیہار، ضلع بلرام پور، اتر پردیش
2️⃣- مدرسہ ناصر العلوم، گونڈہ، اتر پردیش
3️⃣- مدرسہ دارالحدیث اثریہ، مٹھوناتھ بھنجن، اتر پردیش
4️⃣- جامعہ سلفیہ، بنارس، اتر پردیش
5️⃣- جامعہ اسلامیہ دارالعلوم دیوبند، سہارنپور، اتر پردیش
6️⃣- میسور یونیورسٹی سے “ایم اے” کیا
④ مدرسہ دارالحدیث اثریہ مٹھوناتھ بھنجن:
حفظِ قرآن کے بعد آپ نے مدرسہ دارالحدیث اثریہ مٹھوناتھ بھنجن، اتر پردیش میں عربی تعلیم حاصل کی اور وہاں عربی کی دوسری جماعت تک تعلیم حاصل کی ۔
یہ مرحلہ آپ کی عربی زبان اور علومِ اسلامیہ کی بنیادی استعداد کی تشکیل میں اہم رہا۔
⑤ جامعہ سلفیہ بنارس:
اس کے بعد آپ نے جامعہ سلفیہ، بنارس، اتر پردیش کا رخ کیا اور وہاں تقریباً ایک سال عالمیت سالِ اول میں تعلیم حاصل کی۔
جامعہ سلفیہ بنارس برصغیر کے اہلِ حدیث علمی مراکز میں نمایاں مقام رکھتا ہے، اور یہاں سے استفادے نے آپ کے علمی سفر میں مزید وسعت پیدا کی۔
⑥ دارالعلوم دیوبند میں تعلیم:
آپ کے تعلیمی سفر کا ایک اہم مرحلہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم دیوبند، سہارنپور، اتر پردیش ہے۔ آپ نے وہاں دو سالہ فضیلت کا کورس مکمل کیا اور 1984ء میں سندِ فراغت حاصل کی۔
آپ نے دارالعلوم دیوبند میں متعدد اہلِ علم سے استفادہ کیا۔ خصوصاً معروف محدث و مدرس مولانا مفتی سعید احمد پالنبوری رحمہ اللہ سے بھی استفادے کا ذکر ملتا ہے۔
ان سے صحیح بخاری اور شرح عقیدہ طحاویہ جیسے اہم علوم و کتب کے اسباق سے استفادے کیا۔
یہ علمی نسبت آپ کی حدیثی، عقیدتی اور علمی تربیت کے حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
⑦ اعلیٰ عصری تعلیم:
دینی علوم کے ساتھ آپ نے عصری تعلیم بھی حاصل کی۔ آپ نے میسور یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔اس طرح آپ کی علمی شخصیت میں دینی علوم کے ساتھ عصری تعلیمی پس منظر بھی شامل ہوا۔
⑧ علمی قابلیت اور علوم و فنون:
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کو متعدد علوم و فنون سے اشتغال حاصل رہا ہے۔
آپ کی علمی دلچسپی اور قابلیت کے نمایاں میدان یہ ہیں:
1. تفسیر
2. علوم القرآن
3. حدیث
4. اصولِ حدیث
5. عقیدہ
6. توحید
7. فقہ
8. اصولِ فقہ
9. فرائض
10. نحو
11. صرف
12. بلاغت
13. منطق
14. فلسفہ
15. عروض
16. تاریخِ اہلِ حدیث
17. دعوت و تبلیغ
18. اصلاح و تزکیہ
19. زبان و لسانیات
آپ اردو اور فارسی شاعری سے بھی مناسبت رکھتے ہیں اور علمِ عروض پر بھی گہری نظر رکھنے کا ذکر ملتا ہے۔
⑨ دعوت و تبلیغ کا میدان:
تعلیمی مراحل مکمل کرنے کے بعد حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ نے اپنی عملی زندگی میں تدریسِ مدرسہ کے بجائے امامت، خطابت، علمی دروس، دعوت و تبلیغ اور مناظرانہ علمی سرگرمیوں کو نمایاں حیثیت دی۔
آپ نے فراغت کے بعد کسی ایک مدرسے میں مستقل تدریسی خدمت اختیار نہیں کی، بلکہ مختلف مقامات پر امامت و خطابت، علمی دروس اور دعوتی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔
آپ نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں دعوتی و علمی خدمات انجام دیں اور مختلف موضوعات پر عوام و خواص سے خطاب کیا۔
⑩ امامت و خطابت کی خدمات:
آپ نے پارو، تعلقہ مسلہ، ضلع رائے گڑھ، مہاراشٹر میں تقریباً پانچ سال امامت و خطابت کی خدمت انجام دی۔اس کے بعد گلبرگہ، کرناٹک کی مسجد اہلِ حدیث غازین پورہ میں تقریباً تین سال امام و خطیب رہے۔اس کے بعد آپ نے مہاراشٹر کے معروف شہر مالیگاؤں کو اپنی رہائش اور دعوتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا، تقریباً 22 سال سے مقیم رہ کر ملک و بیرونِ ملک علمی دروس اور خطابت کا سلسلہ جاری رکھا۔
⑪ خطابت اور اندازِ بیان:
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کی علمی شناخت کا ایک نمایاں پہلو ان کی خطابت ہے۔
آپ نے ہندوستان کے تقریباً تمام بڑے اور متعدد چھوٹے شہروں میں مختلف حساس، علمی، اعتقادی، اصلاحی اور دعوتی موضوعات پر تقاریر کی ہیں۔
آپ کے خطابات میں بالخصوص:
– قرآنِ مجید کی آیات
– احادیثِ رسول ﷺ
– عربی نصوص
– احادیث کے متون
– احادیث کی اسناد
– آثارِ صحابہ
– اقوالِ ائمہ
– تاریخی شواہد
– علمی و عقلی استدلال سے استفادے کا انداز نمایاں ہے۔
آپ کی خطابت میں علمی نکات، دقیق استنباط، عربی نصوص کے استعمال اور عام سامعین کے لیے مشکل مسائل کو قابلِ فہم انداز میں بیان کرنے کا وصف نمایاں طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
آپ بعض خطابات میں طویل احادیث کے عربی متون و اسناد کو یادداشت سے بیان کرتے ہیں اور ہندوستانی علمی و ثقافتی ماحول کے تناظر میں فارسی اور سنسکرت اشعار کے حوالے بھی پیش کرتے ہیں۔
⑫ قرآن و حدیث کے دروس:
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کے علمی کام کا بنیادی مرکز قرآن و حدیث ہے۔
آپ کے محفوظ دروس میں قرآنِ مجید کی تفسیر کے مستقل سلسلے بھی موجود ہیں اور حدیث، علومِ حدیث، عظمتِ حدیث اور تاریخِ حدیث جیسے موضوعات پر بھی متعدد خطابات شامل ہیں۔رمضان المبارک کے دوران مختلف مساجد میں آپ کی طرف سے قرآنِ مجید کی مکمل تفسیر کے دروس کا بھی ذکر ملتا ہے۔
⑬ تفسیرِ قرآن:
تفسیرِ قرآن آپ کی علمی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ہے۔
آپ نے مختلف سورتوں اور قرآنی موضوعات پر مستقل دروس دیے، جن میں:
– سورۃ الفاتحہ
– سورۃ یوسف
– سورۃ الواقعہ
– سورۃ الاخلاص
– سورۃ لہب
– آیت الکرسی
– دعائے یونس
– اور دیگر قرآنی موضوعات شامل ہیں۔
آپ کے تفسیری دروس میں آیات کے معانی، مضامین، عقائدی نکات، اصلاحی پہلو اور مختلف علمی مباحث کو بیان کیا جاتا ہے۔
⑭ تفسیر ’’ذکر للعالمین‘‘:
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کی تصنیفی خدمات میں تفسیر ’’ذکر للعالمین‘‘ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
اس تفسیر کی پہلی جلد کی اشاعت 2018ء میں ہوئی اور یہ جلد 511 صفحات پر مشتمل بتائی گئی ہے۔
اس میں اصولِ تفسیر سے متعلق ایک مفصل مقدمہ، متعدد قرآنی آیات کی تشریح، قرآنِ مجید میں مذکور بعض واقعات اور بعض جانوروں سے متعلق تحقیقی مباحث بھی شامل ہیں۔
یہ تصنیف قرآن فہمی کے ساتھ علمی و تحقیقی موضوعات کو بھی یکجا کرنے کی ایک نمایاں کوشش ہے۔
⑮ علمی دروس اور ورکشاپس:
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ نے مختلف مدارس و مساجد میں علمی دروس اور ورکشاپس بھی منعقد کیں۔
– جامعہ محمدیہ عربیہ، رائبورگ، آندھرا پردیش
– جامعہ المنصوان السلفیہ، تروپتی، آندھراپردیش
اور دیگر مدارس و مساجد ۔
ان علمی پروگراموں میں:
– علمِ فرائض
– نحو و صرف
– اصولِ حدیث
– اصولِ فقہ
– بلاغت
– منطق
– اور دیگر علوم کے حوالے سے مستقل علمی نشستیں اور ورکشاپس منعقد کرنے کا ذکر موجود ہے۔
⑯ مناظرانہ علمی خدمات:
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کی علمی سرگرمیوں میں مناظرانہ اور ردّی لٹریچر کا بھی ایک نمایاں حصہ ہے۔
آپ نے عقیدہ، توحید، فقہی و منہجی مسائل اور مختلف علمی اعتراضات کے جوابات میں تحریری و تقریری خدمات انجام دیں۔
آپ کی بعض معروف تصانیف اسی علمی مناظرانہ پس منظر سے متعلق ہیں، جن میں:
📚احسن الجدال بجواب راہِ اعتدال
اور
📚رفع الشکوک والأوهام بجواب بارہ مسائل میں لاکھ انعام
خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
آپ نے بنگلور، کرنول، ہلم پور، گلبرگہ اور ہندوستان کے دیگر شہروں میں مختلف علمی مجالس اور مناظرانہ نشستوں میں شرکت کی۔
⑰ ’’احسن الجدال‘‘:
آپ کی معروف تصانیف میں:
أَحْسَنُ الْجِدَالِ بِجَوَابِ رَاهِ الْاعْتِدَالِ
خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔
یہ کتاب علمی و فکری مباحث اور مناظرانہ مسائل کے جواب میں لکھی گئی ہے۔اس تصنیف کا تعلق مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’راہِ اعتدال‘‘ کے جواب سے بیان کیا جاتا ہے۔
⑱ ’’رفع الشکوک والأوهام‘‘:
آپ کی ایک اور نمایاں تصنیف:
رَفْعُ الشُّكُوكِ وَالْأَوْهَامِ بِجَوَابِ بَارَہ مَسَائِل میں لاکھ انعام ہے۔
اس میں مختلف علمی، اعتقادی اور منہجی مسائل سے متعلق شبہات اور اعتراضات کے جوابات پیش کیے گئے ہیں۔
⑲ تصنیف و تالیف:
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کی تصانیف کی تعداد 75 سے زائد ہیں، جبکہ اس وقت 54 کتابوں کے عناوین دستیاب ہیں۔آپ کی تصانیف میں تفسیر، قرآن، حدیث، عقیدہ، تقلید، دعوت، اصلاح، فرائض، اصولِ فقہ، اصولِ حدیث، نحو، صرف، منطق، فلسفہ، عروض، فارسی، سنسکرت، اردو اور دیگر لسانی موضوعات شامل ہیں۔
بعض کتابوں کے تراجم دوسری زبانوں میں بھی ہونے کا ذکر ملتا ہے۔
⑳ تصانیف کی فہرست:
📖 تفسیری و قرآنی کتب
1۔ تفسیر ذکرُ للعالمین
قرآنِ مجید کی تفسیری کاوش، جس میں آیات کے معانی، مضامین اور اہم تفسیری نکات بیان کیے گئے ہیں۔
2۔ تفسیر القرآن بعد قیام اللیل فی رمضان۔
رمضان المبارک میں قیام اللیل کے بعد قرآنِ مجید کے دروسِ تفسیر پر مشتمل علمی کاوش۔
3۔ نکاتِ قرآنیہ — دو جلدیں
قرآنِ کریم کے منتخب مضامین، علمی نکات اور تفسیری لطائف کا مجموعہ۔
4۔ تفسیر آیت الکرسی
آیت الکرسی کے معانی، مضامین اور عقائدی و ایمانی پہلوؤں کی تشریح۔
5۔ تفسیر سورہ اخلاص
سورہ اخلاص کے توحیدی مضامین اور معانی کی تفصیلی وضاحت۔
6۔ تفسیر سورہ لہب
سورہ لہب کے مضامین، اسباق اور دعوتی پہلوؤں کی تشریح۔
7۔ آیۃ الکرسی اور عظمتِ الٰہی
آیت الکرسی کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت اور صفات کا بیان۔
8۔ معجزاتِ قرآن
قرآنِ مجید کے معجزانہ پہلوؤں اور اس کی اعجازی خصوصیات کا مطالعہ۔
9۔ خلاصہ قرآن
قرآنِ مجید کی 114 سورتوں کے مضامین اور مرکزی مفاہیم کا جامع خلاصہ۔
10۔ تفسیر دعائے یونس
دعائے یونس علیہ السلام کے معانی، فضائل اور اصلاحی پیغام کی تشریح۔
11۔ دقائقِ تفسیریہ
قرآنِ حکیم کے اہم مضامین، تفسیری نکات اور علمی خلاصوں پر مشتمل کتاب۔
12۔ التبصیر فی أصولِ التفسیر
اصولِ تفسیر کے بنیادی مباحث اور قرآن فہمی کے اہم اصولوں کا علمی بیان۔
📚 فقہی، منہجی، حدیثی و اصلاحی کتب
13۔ ردِ تقلید
قرآن و حدیث، آثارِ صحابہ اور ائمہ کے اقوال کی روشنی میں تقلید کے مسئلے کا تحقیقی جائزہ۔
14۔ تقلید کی شرعی حیثیت
تقلید کے مفہوم، شرعی حیثیت اور اس سے متعلق اہم دلائل کا جائزہ۔
15۔ احسن الجدل
مختلف علمی و مناظرانہ مسائل کے دلائل اور جوابات پر مشتمل تحقیقی کاوش۔
16۔ رفع الشکوک والأوهام
اہم اعتقادی و منہجی اعتراضات اور شبہات کے علمی جوابات پر مشتمل کتاب۔
17۔ دعوتِ قرآن و حدیث
قرآن و سنت کی طرف دعوت، اس کے اصول اور دعوتی منہج کی وضاحت۔
18۔ مختصر تاریخ اہلِ حدیث
اہلِ حدیث کے علمی و تاریخی پس منظر کا مختصر اور جامع تعارف۔
19۔ منکرینِ حدیث کے علمی جوابات
منکرینِ حدیث کی طرف سے پیش کیے جانے والے اعتراضات اور مغالطوں کے تحقیقی جوابات۔
20۔ حجیتِ حدیث
حدیثِ رسول ﷺ کی حجیت، مقام اور شرعی حیثیت کو دلائل کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش۔
21۔ کیا اہلِ حدیث نیا فرقہ ہے؟
اہلِ حدیث کے تاریخی و منہجی تعارف اور اس حوالے سے پائے جانے والے شبہات کا جائزہ۔
22۔ عورت اور اسلام
اسلام میں عورت کے مقام، حقوق اور معاشرتی حیثیت کا بیان۔
23۔ دل
قلب کی حقیقت، اس کی اصلاح اور انسان کی روحانی زندگی پر اس کے اثرات کا بیان۔
24۔ گناہوں کی معافی کے دس اسباب
قرآن و سنت کی روشنی میں مغفرتِ الٰہی کے اسباب اور توبہ و اصلاح کی ترغیب۔
25۔ شرح سید الاستغفار
سید الاستغفار کے الفاظ، معانی، فضائل اور اس کے ایمانی و اصلاحی مضامین کی تشریح۔
26۔ روحوں کا سفر
روح، موت اور آخرت سے متعلق اسلامی تعلیمات اور اہم مباحث کا بیان۔
27۔ اللہ تعالیٰ کی دس تاکیدی وصیتیں
اللہ تعالیٰ کی اہم ہدایات و وصایا کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کرنے والی کتاب۔
28۔ نصیحت کے پھول
اصلاحِ نفس، اخلاق اور دینی زندگی سے متعلق مختصر اور مؤثر نصائح کا مجموعہ۔
29۔ مسئلہ علمِ غیب
علمِ غیب کی حقیقت اور اس سے متعلق اسلامی عقیدے کی وضاحت۔
📚 علومِ اسلامیہ و نصابی کتب📚
30۔ تدمیث الفرائض
علمِ میراث کے مسائل کو آسان، جامع اور تدریسی انداز میں پیش کرنے والی کتاب۔
31۔ تمرین الفرائض
علمِ فرائض کے مسائل کی مشق اور عملی تفہیم کے لیے مرتب کی گئی کتاب۔
32۔ تدمیث اصول الفقہ
اصولِ فقہ کے بنیادی مباحث کو آسان اور تعلیمی انداز میں پیش کرنے کی کاوش۔
33۔ تفہیم مصطلح الحدیث
علمِ مصطلح الحدیث کے بنیادی اصول و اصطلاحات کو آسان اردو میں سمجھانے والی کتاب۔
34۔ تدمیث مصطلح الحدیث
مصطلحِ حدیث کے اہم مباحث کو تدریسی اور آسان اسلوب میں مرتب کیا گیا ہے۔
35۔ تدمیث العقائد
اسلامی عقائد کے بنیادی مسائل کو آسان اور جامع انداز میں بیان کرنے والی کتاب۔
36۔ تدمیث المعقول
علمِ معقول کے بنیادی مباحث اور اصطلاحات کا تعلیمی انداز میں تعارف۔
37۔ تدمیث المنطق
علمِ منطق کے اصول و قواعد کو آسان اور تدریسی اسلوب میں پیش کرنے والی کتاب۔
38۔ مذکرۃ النحو والصرف والفرائض
نحو، صرف اور فرائض کے اہم مباحث کو یکجا کرنے والا تعلیمی مجموعہ۔
📚 نحو، صرف، زبان و لسانیات📚
39۔ آؤ سنسکرت سیکھیں
سنسکرت زبان کے بنیادی قواعد اور تعارف کو آسان انداز میں پیش کرنے کی کاوش۔
40۔ سنسکرت اردو گرامر
سنسکرت زبان کے قواعد کو اردو زبان کے ذریعے سمجھانے والی کتاب۔
41۔ فارسی اردو گرامر
فارسی زبان کے قواعد و ترکیبات کا اردو زبان میں آسان تعارف۔
42۔ انگریزی زبان کی منتخب تعبیریں
انگریزی زبان کی اہم اور روزمرہ استعمال ہونے والی منتخب تعبیرات کا مجموعہ۔
43۔ اساس اردو
اردو زبان کے بنیادی اصول، قواعد اور لسانی مباحث سے متعلق کتاب۔
44۔ ہدایۃ النحو
عربی نحو کے بنیادی قواعد اور اصولوں کی آسان تعلیمی وضاحت۔
45۔ بدایۃ النحو
عربی نحو کے ابتدائی قواعد کو طلبہ کے لیے آسان انداز میں پیش کرنے والی کتاب۔
46۔ تنویر النحو
عربی نحو کے اہم قواعد اور مسائل کی تشریح پر مشتمل تعلیمی کتاب۔
47۔ تدمیث النحو
عربی نحو کے قواعد و مباحث کو جدید اور تدریسی انداز میں مرتب کرنے کی کوشش۔
48۔ ربیع النحو
عربی نحو کے قواعد اور عملی مشقوں پر مشتمل تعلیمی کاوش۔
49۔ تنویر الصرف
عربی صرف کے بنیادی قواعد اور تصریفی مباحث کو آسان انداز میں پیش کرنے والی کتاب۔
50۔ تدمیث الصرف
علمِ صرف کے اہم قواعد اور مباحث کی تدریسی و آسان وضاحت۔
51۔ تراکیبِ بیدل
فارسی ادب، خصوصاً بیدل کے کلام کی تراکیب اور لسانی پہلوؤں سے متعلق کاوش۔
52۔ تدمیث العروض
علمِ عروض کے بنیادی اصول، بحور اور شعری اوزان کا تعلیمی تعارف۔
53۔ بھگود گیتا — تحقیقی جائزہ
بھگود گیتا کے مذہبی و فکری مباحث کا تحقیقی اور تقابلی مطالعہ۔
54۔ تعلم اللغة العربية من خلال اللغة الإنجليزية
انگریزی زبان کے ذریعے عربی زبان سیکھنے کے لیے مرتب کی گئی تعلیمی کتاب۔
㉑ صوتی علمی سرمایہ:
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کے خطابات کا ایک وسیع صوتی ذخیرہ مختلف ویب ذرائع پر موجود ہیں۔ان خطابات میں متعدد موضوعات شامل ہیں، جن میں:
– فضائلِ قرآن
– فضائلِ علم
– توحید اور اس کے اثرات
– عظمتِ حدیث
– تاریخِ حدیث
– تاریخِ اہلِ حدیث
– تزکیۂ نفس
– تقویٰ
– توبہ
– فکرِ آخرت
– سیرتِ ابراہیم علیہ السلام
– تفسیرِ سورۃ یوسف
– تفسیرِ آیت الکرسی
– اسلام اور میڈیکل سائنس
– اسلام اور دہشت گردی
– اصلاحِ معاشرہ
– تربیتِ اولاد
– ایمان و عمل
– علم کی اہمیت
– فرقہ واریت
– ایصالِ ثواب اور متعدد دیگر موضوعات شامل ہیں۔
㉒ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں دعوتی خدمات:
آپ کی دعوتی سرگرمیاں ہندوستان کے کسی ایک شہر تک محدود نہیں رہیں۔آپ کے محفوظ خطابات اور دعوتی پروگراموں میں ہندوستان کے متعدد علاقوں کا ذکر ہے جن میں:
– احمد آباد
– ممبئی کے اطراف
– گلبرگہ
– جمبوسر
– کولکاتا
– نادیاد
– کمان
– بہار
– میوات
– گجرات کے مختلف علاقے
– کرنول
– بنگلور
– ہلم پور
– رائے گڑھ
– مالیگاؤں
– اور دیگر متعدد شہر و علاقےشامل ہیں۔
㉓ بیرونِ ملک دعوتی و علمی سفر
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کی دعوتی سرگرمیاں ہندوستان تک محدود نہیں رہیں۔ آپ نے سعودی عرب میں بھی متعدد علمی و دعوتی پروگراموں میں شرکت کی۔خصوصاً جدہ کے دعوتی مراکز میں آپ کے خطابات ملتے ہیں، جبکہ مدینہ منورہ میں بھی آپ کے علمی خطابات کا ذکر موجود ہے۔
ان خطابات میں علم کی اہمیت، توحید، ایمان، فرقہ واریت، ایصالِ ثواب اور دیگر دینی و اصلاحی موضوعات شامل رہے ہیں۔
㉔ مختلف زبانوں میں علمی استعداد:
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ متعدد زبانوں سے واقفیت رکھتے ہیں۔
– اردو
– عربی
– انگریزی
– ہندی
– فارسی
– سنسکرت
پر بھی خاصی دسترس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
آپ کی مادری زبان بھوجپوری ہے۔
اردو اور فارسی میں شعر و شاعری سے بھی آپ کو شغف ہے، جبکہ علمِ عروض سے بھی مناسبت رکھتے ہیں۔
㉕ ہندوستانی علمی و ثقافتی تناظر میں دعوت:
ہندوستان ایک کثیر لسانی اور کثیر الثقافتی ملک ہے، جہاں دعوت و تعلیم کے لیے مختلف زبانوں، علمی روایات اور ثقافتی حوالوں سے واقفیت خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کے دعوتی اسلوب میں بھی مختلف علاقوں اور طبقوں کے تناظر کو ملحوظ رکھنے کا پہلو دکھائی دیتا ہے۔
اسی وجہ سے ان کے بعض خطابات میں عربی نصوص کے ساتھ اردو، فارسی، ہندی اور سنسکرت کے حوالے بھی سامنے آتے ہیں۔
㉖ علمی و دعوتی اسلوب کی نمایاں خصوصیات:
حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کے علمی و دعوتی اسلوب کے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:
1۔ نصوص سے استدلال
قرآن و حدیث کو گفتگو کی بنیاد بنانا۔
2۔ عربی متن کا اہتمام
احادیث اور علمی نصوص کے اصل عربی متن کو پیش کرنا۔
3۔ حفظ و حافظے کا استعمال
احادیث، نصوص اور علمی شواہد کو زبانی پیش کرنے کا انداز۔
4۔ عوامی زبان میں وضاحت
مشکل علمی مسائل کو عام سامعین کے لیے قابلِ فہم انداز میں بیان کرنا۔
5۔ دعوتی وسعت
عقیدہ، عبادات، اخلاق، معاشرت، فکر اور اصلاح کو دعوت کا حصہ بنانا۔
6۔ تحقیقی مزاج
مختلف موضوعات پر مستقل کتابیں اور رسائل تحریر کرنا۔
7۔ لسانی تنوع
عربی، اردو، فارسی، ہندی اور سنسکرت کے علمی و ادبی ذخیرے سے استفادہ کرنا۔
دعا: اللہ تعالیٰ حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کی علمی، دعوتی اور تصنیفی خدمات کو قبول فرمائے، انہیں صحت و عافیت عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت دے اور ان کی علمی کاوشوں کو دین و ملت کے لیے نافع بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




