شیخ ڈاکٹر سلیمان بن سلیم اللہ الرحيلی حفظہ اللہ کامختصر تعارف
شیخ ڈاکٹر سلیمان بن سلیم اللہ الرحيلي حفظہ اللہ عصرِ حاضر کے معروف اہلِ علم، فقیہ، اصولی، مدرس، داعی اور خطیب ہیں۔ آپ کی علمی شخصیت خصوصاً فقہ، اصولِ فقہ، قواعدِ فقہیہ، عقیدہ، منہجِ سلف، تدریس، تصنیف اور دعوت کے میدانوں میں نمایاں ہے۔
آپ کا علمی و عملی سفر مدینہ منورہ کی علمی فضا میں پروان چڑھا؛ بچپن ہی سے مسجد نبوی ﷺ کے دروس میں حاضری، کم عمری میں حفظِ قرآن، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے باقاعدہ دینی تعلیم، پھر اصولِ فقہ میں تخصص، اعلیٰ علمی تحقیقات، جامعہ اسلامیہ میں تدریس و انتظامی ذمہ داریاں اور مسجد نبوی ﷺ میں تدریسی خدمات—یہ سب آپ کی علمی زندگی کے اہم مراحل ہیں۔
نام، نسب اور ولادت:
آپ کا نام: سلیمان بن سلیم اللہ بن رجاء اللہ بن بُطِيّ الرحيلي الحربي ہے۔
آپ کا تعلق قبیلۂ حرب سے ہے۔ شیخ اپنے تعارف میں بیان کرتے ہیں کہ آپ مدینہ منورہ ہی میں پیدا ہوئے، وہیں پرورش پائی، وہیں علمی زندگی گزاری اور آج تک مدینہ سے وابستہ ہیں۔
آپ کی ولادت رجب ۱۳۸۶ھ میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔
والدِ محترم کی تربیت اور ابتدائی علمی ماحول:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ کی علمی شخصیت کی تشکیل میں ان کے والدِ محترم کا کردار نہایت اہم رہا۔
شیخ محترم خود بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد اہلِ علم کی مجالس سے محبت رکھتے تھے اور انہیں چھ سال کی عمر سے بھی پہلے علماء کی مجالس میں لے جایا کرتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ رسمی تعلیم شروع ہونے سے قبل ہی شیخ کو مسجد نبوی ﷺ کے علمی ماحول سے وابستگی حاصل ہوگئی۔
شیخ کے والد خود بھی اہلِ علم کی مجالس میں شرکت کرتے تھے، حتیٰ کہ شیخ عمر فلاتہ رحمہ اللہ نے انہیں بتایا کہ وہ ان کے والد کے ساتھ شیخ عبدالرحمن الإفريقي رحمہ اللہ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے۔
یہ ابتدائی تربیت بعد میں شیخ کی پوری علمی زندگی کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوئی۔
کم سنی میں مسجد نبوی ﷺ سے علمی تعلق:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ نے باقاعدہ اسکولی تعلیم سے پہلے ہی مسجد نبوی ﷺ کے علمی حلقوں میں بیٹھنا شروع کردیا تھا۔
آپ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے چھ سال کی عمر سے بھی پہلے:
🔸 شیخ محمد الأمین الشنقیطی رحمہ اللہ کی بعض مجالس میں شرکت کی
🔸 شیخ عمر بن محمد فلاتہ رحمہ اللہ کے دروس میں حاضر ہوئے
🔸 شیخ ابوبکر الجزائری رحمہ اللہ کی مجالس میں کثرت سے بیٹھے
🔸 مدینہ آمد کے وقت شیخ محمد ناصر الدین الألبانی رحمہ اللہ کے بعض دروس میں شرکت کی
🔸 شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کے ریاض اور مدینہ کے بعض دروس میں حاضر ہوئے
🔸 اور شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کے مدینہ میں منعقد ہونے والے بعض عمومی و خصوصی دروس میں بھی شرکت کی۔
یہاں یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ ان تمام بزرگ علماء سے ابتدائی مجالس میں شرکت کا ذکر خود شیخ نے کیا ہے اس لیے اسے باقاعدہ طویل مدت کی شاگردی کے مفہوم میں لینا ضروری نہیں۔
حفظِ قرآن مجید:
چھ سال کی عمر میں شیخ محترم نے اپنے محلے کی ایک مسجد میں حفظِ قرآن کا آغاز کیا۔
آپ نے اپنے قبیلے کے شیخ عتیق بن جابر الرحيلي سے قرآن مجید حفظ کیا، جبکہ یہ مدرسہ شیخ راشد بن عاتق الرحيلي رحمہ اللہ کی نگرانی میں تھا۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو کم عمری ہی میں حفظِ قرآن کی نعمت عطا فرمائی اور آپ نے دس سال کی عمر سے پہلے قرآن مجید مکمل حفظ کرلیا۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخلہ:
ابتدائی اسکولی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شیخ محترم کے والد محترم کی شدید خواہش تھی کہ ان کا بیٹا علمِ شرعی حاصل کرے۔
اگرچہ اس وقت شیخ سلیمان حفظہ اللہ کا رجحان اور استعداد عصری و سائنسی مضامین میں بھی نمایاں تھی اور جامعہ اسلامیہ میں داخلے کے سلسلے میں بعض مشکلات کا سامنا ہوا لیکن والد محترم نے اصرار کیا کہ انہیں دینی تعلیم ہی کی طرف بھیجا جائے۔
ان کا مشہور جواب تھا:
[الرِّزْقُ بِيَدِ اللهِ، أَنَا أُرِيدُهُ أَنْ يَتَعَلَّمَ الْعِلْمَ الشَّرْعِيَّ.]
رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا علمِ شرعی حاصل کرے۔
چنانچہ شیخ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے معہد متوسط میں داخلہ لیا، پھر معہد ثانوی میں تعلیم حاصل کی اور بالآخر کلیۃ الشریعۃ میں داخل ہوئے۔
کلیۃ الشریعۃ میں علمی امتیاز:
جامعہ اسلامیہ کی کلیۃ الشریعۃ میں دورانِ تعلیم شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ کا شمار ممتاز طلبہ میں ہوا۔
آپ کے ایک ممتاز ساتھی شیخ یاسین محمود رحمہ اللہ تھے۔ شیخ خود بیان کرتے ہیں کہ دونوں کے درمیان پہلی اور دوسری پوزیشن کا تبادلہ ہوتا رہا پہلے سال شیخ سلیمان پہلی پوزیشن پر رہے، دوسرے سال شیخ یاسین پہلی پوزیشن پر آئے جبکہ تیسرے اور چوتھے سال شیخ سلیمان الرحيلي نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔یہ تعلیمی امتیاز آپ کی محنت، علمی استعداد اور طلبِ علم میں سنجیدگی کی واضح مثال ہے۔
نمایاں اساتذہ:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ نے اپنی علمی زندگی میں متعدد اہلِ علم سے استفادہ کیا۔
آپ کی اپنی سوانح میں جن اساتذہ کا صراحت سے ذکر ملتا ہے، ان میں:
🔸 شیخ محمد الأمین الشنقیطی رحمہ اللہ
ابتدائی عمر ہی میں مسجد نبوی ﷺ میں ان کی بعض مجالس میں شرکت کا موقع ملا۔
🔸 شیخ عمر بن محمد فلاتہ رحمہ اللہ
مسجد نبوی ﷺ کے معروف محدث و مدرس، جن کی مجالس میں شیخ نے کم عمری ہی سے شرکت کی۔
🔸 شیخ ابوبکر الجزائری رحمہ اللہ
ان کے دروس میں شیخ نے خاص طور پر کثرت سے حاضری دی۔
🔸 شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ
مدینہ اور ریاض میں ان کے بعض دروس سے استفادہ کیا۔
🔸 شیخ محمد ناصر الدین الألبانی رحمہ اللہ
جب وہ مدینہ تشریف لاتے تو ان کے بعض دروس میں شرکت کی۔
🔸 شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
مدینہ میں ان کے بعض عمومی و خصوصی دروس میں شرکت کی۔
🔸 شیخ عبدالسلام بن سالم السحیمی حفظہ اللہ
کلیۃ الشریعۃ میں آپ نے ان سے دو سال باقاعدہ تلمذ کیا۔
🔸 شیخ صالح السحیمی حفظہ اللہ
🔸 شیخ علی بن عبدالرحمن الحذیفی حفظہ اللہ
🔸 شیخ فیحان المطیری حفظہ اللہ
یہ آخری اساتذہ بالخصوص جامعہ اسلامیہ میں شیخ کے باقاعدہ تعلیمی سفر سے متعلق ہیں۔
تخصصِ اصولِ فقہ کی طرف سفر:
کلیۃ الشریعۃ سے فراغت کے بعد شیخ کو شعبہ اصولِ فقہ میں جانے کا موقع ملا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شیخ خود بیان کرتے ہیں کہ ان کے مختلف اساتذہ انہیں مختلف شعبوں میں دیکھنا چاہتے تھے۔ بعض نے انہیں عقیدہ کی طرف جانے کا مشورہ دیا، جبکہ شیخ فیحان المطیری انہیں فقہ میں جانے کی ترغیب دیتے تھے لیکن تقدیرِ الٰہی سے شیخ کا تعلق اصولِ فقہ کے شعبے سے قائم ہوا۔
یہی شعبہ آگے چل کر ان کی علمی شناخت کا مرکزی میدان بن گیا۔
تدریسی زندگی کا آغاز:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ شعبہ اصولِ فقہ میں معید مقرر ہوئے۔
انہوں نے تدریس کے ابتدائی دور ہی میں فقہی قواعد کو خصوصی اہمیت دی اور خود بیان کرتے ہیں کہ جب کلیۃ الشریعۃ میں قواعدِ فقہیہ کو باقاعدہ تدریسی مضمون کے طور پر متعارف کرایا گیا تو وہ اس مضمون کو پڑھانے والے پہلے اساتذہ میں تھے بلکہ اپنے بیان کے مطابق کالج میں سب سے پہلے اسے پڑھانے والے استاد تھے۔
بعد ازاں آپ نے جامعہ اسلامیہ کے دراساتِ علیا میں تدریس شروع کی اور آج بھی اپنے تعارف میں جامعہ سے تدریسی وابستگی کا ذکر کرتے ہیں۔
اعلیٰ علمی اسناد:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ نے فقہ و اصولِ فقہ میں اعلیٰ علمی تحقیقات مکمل کیں۔
📚 مقالہ ماسٹرز
آپ کی رسالة الماجستير کا موضوع تھا:
«التأويل وأثره في أصول الفقه»
اس تحقیق کے نگران شیخ عمر عبدالعزیز تھے۔ شیخ سلیمان حفظہ اللہ نے ان کے علم، توحید سے محبت، عقیدۂ سلف سے وابستگی اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ و ابن القیم رحمہما اللہ کی کتب سے محبت کا خصوصی ذکر کیا ہے۔
📚 مقالہ ڈاکٹریٹ
آپ کی رسالة الدكتوراه کا عنوان تھا:
«القواعد المشتركة بين أصول الفقه والقواعد الفقهية»
اس تحقیق کے نگران بھی شیخ عمر عبدالعزیز تھے، جو بعد میں ام القریٰ منتقل ہوگئے؛ تاہم انہوں نے باقاعدہ درخواست کرکے شیخ کی نگرانی جاری رکھی اور بعض اوقات مکہ سے مدینہ آکر ان کی تحقیق کی نگرانی کرتے رہے۔
جامعہ اسلامیہ میں علمی و تدریسی خدمات:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں طویل علمی و تدریسی خدمات انجام دی ہیں۔
آپ کی علمی ذمہ داریوں میں:
🔸 کلیۃ الشریعۃ کے شعبہ اصولِ فقہ میں استاد
🔸 بی اے سطح پر تدریس
🔸 ایم اے سطح پر اصولِ فقہ کی تدریس
🔸 ڈاکٹریٹ سطح پر فقہ کی تدریس
🔸 متعدد تحقیقی رسائل کی نگرانی
🔸 اندرون و بیرونِ جامعہ تحقیقی کاموں کی نگرانی
🔸 علمی و ثقافتی پروگراموں میں شرکت شامل ہیں۔
جامعہ اسلامیہ کے موجودہ سرکاری تعارف میں بھی آپ کو کلیۃ الشریعۃ قسم اصول الفقہ سے وابستہ استاد اور الفقہ وأصوله کے تخصص کے حامل ڈاکٹر کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
جامعہ اسلامیہ کی انتظامی خدمات:
تدریس کے ساتھ شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ نے جامعہ اسلامیہ میں مختلف انتظامی ذمہ داریاں بھی انجام دیں۔ آپ سابقاً:
🔸 عمید شؤون الطلاب
🔸 وکیل کلیۃ الشریعۃ للدراسات العليا والمسائية
🔸 مجلسِ جامعہ کے رکن
🔸 اللجنة العليا للتوجيه والإرشاد کے رکن
🔸 عمادۃ القبول والتسجيل میں افریقہ کمیٹی کے سربراہ
🔸 ایشیا کمیٹی کے سربراہ
🔸 یورپ کمیٹی کے سربراہ رہے ہیں۔
یہ ذمہ داریاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ان کی خدمات صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہیں بلکہ جامعہ کی علمی و انتظامی زندگی میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔
کرسیِ افتاء و ضوابط:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ جامعہ اسلامیہ میں شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ کی کرسی برائے فتویٰ و ضوابطہ سے بھی وابستہ رہے ہیں۔یہ ذمہ داری فقہی مسائل، اصولِ افتاء اور علمی رہنمائی کے میدان میں آپ کی تخصصی حیثیت سے متعلق اہم علمی خدمت ہے۔
مسجد نبوی ﷺ میں تدریس:
جامعہ اسلامیہ کی تدریس کے ساتھ شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ کو مسجد نبوی ﷺ میں تدریس کی سعادت بھی حاصل ہے۔
شیخ کی سرکاری ویب سائٹ پر مسجد نبوی ﷺ میں آپ کے متعدد علمی دروس اور شروح موجود ہیں جن میں عقیدہ، توحید، فقہ، تزکیہ اور مختلف علمی متون شامل ہیں۔
آپ کی علمی سرگرمیاں آج بھی جاری ہیں اور سرکاری ویب سائٹ پر موجود تازہ مواد میں مسجد نبوی ﷺ کے دروس مسلسل درج ہیں۔
خطابت و دعوت:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ خطابت اور دعوت کے میدان میں بھی معروف ہیں۔
آپ نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں کے علاوہ بیرونِ ملک بھی علمی محاضرات اور دورات میں شرکت کی ہے۔ شیخ کی اپنی سوانح میں اندرونِ سعودی عرب اور بیرونِ ملک محاضرات اور علمی دورات کا ذکر موجود ہے۔
اسی طرح آپ کی سرکاری ویب سائٹ پر مسجد قباء کے متعدد خطبات بھی موجود ہیں، جس سے وہاں آپ کی خطابی سرگرمیوں کا بھی ثبوت ملتا ہے۔
علمی و دعوتی سفر:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ نے سعودی عرب سے باہر بھی علمی سرگرمیوں میں شرکت کی۔
آپ کی اپنی سوانح میں:
🔸 کویت میں کانفرنسِ مواطنت سمیت دیگر پروگراموں میں شرکت
🔸 ریاستہائے متحدہ امریکہ کے بین الاقوامی وزٹنگ پروفیسر پروگرام میں شرکت
🔸 مختلف ممالک میں علمی محاضرات اور دورات کا ذکر موجود ہے۔
منہجِ سلف سے وابستگی:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ اپنی علمی زندگی کی بنیاد کتاب و سنت اور منہجِ سلف صالحین پر رکھنے کی صراحت کرتے ہیں۔
وہ اپنے اساتذہ کو اپنی علمی تربیت کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ان کے مشایخ نے انہیں یہ سکھایا کہ:
علمِ نافع اور عملِ صالح دونوں کے لیے منہجِ سلف ہی صحیح بنیاد ہے۔
شیخ اسی منہج پر ثابت قدم رہنے کی دعا بھی کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے دروس میں عقیدہ، توحید، سنت، فقہ، اصولِ فقہ، فقہی قواعد اور اصلاحِ معاشرہ جیسے موضوعات ایک دوسرے سے مربوط انداز میں نظر آتے ہیں۔
تصنیف و تالیف:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ نے متعدد علمی موضوعات پر تصنیف و تحقیق کی ہے۔ خود شیخ کی سرکاری سوانح میں درج تصانیف میں یہ کتب شامل ہیں:
📚 اصولِ فقہ و قواعد
1۔ التأويل وأثره في أصول الفقه
2۔ القواعد المشتركة بين أصول الفقه والقواعد الفقهية
3۔ قواعد تعارض المصالح والمفاسد
4۔ مسائل الكتاب والسنة ودلالات الألفاظ التي أخطأ فيها الرازي في المحصول والمعلوم
5۔ التعريفات الأصولية في مجموعة فتاوى شيخ الإسلام ابن تيمية
6۔ مسائل الأمر الأصولية التي انتقدها شيخ الإسلام ابن تيمية
7۔ الإشراقات على كتاب المقاصد في الموافقات
8۔ نقد شيخ الإسلام ابن تيمية لمسألة تكليف ما لا يطاق
ان تصانیف میں بالخصوص اصولِ فقہ، فقہی قواعد، دلالاتِ الفاظ، مقاصد اور اصولی مناقشات نمایاں ہیں۔
عقیدہ، تربیت اور دعوت سے متعلق تصانیف:
9۔ شرح الأصول الثلاثة
10۔ إنحراف الشباب: الوسائل والعلاج
11۔ من فقه الفتن شامل ہیں۔
یہاں بھی شیخ کی علمی دلچسپی کا دائرہ محض تخصصی اصولی مباحث تک محدود نہیں بلکہ توحید، نوجوانوں کی اصلاح، فتنوں کی فقہ اور دعوتی تربیت تک پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔
علمی شروحات:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ نے متعدد متون اور کتب کی شرح بھی کی ہے۔
ان کی سرکاری سوانح میں درج شروحات میں:
📚 شرح الأصول الثلاثة
📚 شرح منظومة السعدي في القواعد الفقهية
📚 شرح كتاب البيوع من منار السبيل شامل ہیں۔ ان میں سے بعض شروحات اس وقت مخطوط یا زیرِ طباعت تھیں اور بعض کو طلبہ نے شیخ کے دروس سے تحریری شکل میں مرتب کیا۔
اس کے علاوہ شیخ کی موجودہ سرکاری ویب سائٹ پر شرح کتاب التوحید، شرح کتاب الکبائر اور دیگر علمی شروح کے مسلسل دروس بھی موجود ہیں۔
فقہ اور اصولِ فقہ میں خصوصی امتیاز:
شیخ کی علمی شخصیت کا مرکزی تخصص فقہ و اصولِ فقہ ہے۔
آپ کی تصانیف اور تدریسی سرگرمیوں سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اصولی قواعد، فقہی ضوابط، دلالاتِ الفاظ، تعارضِ مصالح و مفاسد اور استنباطِ احکام آپ کی علمی دلچسپی کے بنیادی موضوعات ہیں۔
علمی اسلوب اور منہجِ تدریس:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ کے علمی اسلوب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ نصوصِ شرعیہ، فقہی قواعد اور اصولی ضوابط کو باہم مربوط کرکے مسئلے کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
آپ کی تدریس میں تخصصی اصولی مباحث کے ساتھ عقیدہ، فقہ، تربیت اور عملی زندگی کے مسائل بھی شامل ہوتے ہیں، جس سے آپ کی مجالس میں طلبۂ علم کے ساتھ عام مستفیدین کے لیے بھی استفادے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
تحقیقی و علمی نگرانی:
جامعہ اسلامیہ میں شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ نے ایم اے اور ڈاکٹریٹ کے طلبہ کو تدریس کے ساتھ ان کے تحقیقی رسائل کی نگرانی بھی کی۔خود شیخ کی سوانح میں جامعہ کے اندر اور باہر متعدد تحقیقی رسائل کی اشراف و نگرانی کا ذکر موجود ہے۔
یہ پہلو ان کی علمی خدمات کو محض تدریس اور خطابت سے آگے بڑھا کر تحقیق و علمی تربیت سے جوڑتا ہے۔
خاندانی زندگی:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ شادی شدہ ہیں۔
آپ کے اپنے بیان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات اولاد عطا فرمائی، جن میں پانچ بیٹے ہیں۔
شیخ نے اپنی خاندانی زندگی کے بارے میں اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے اور اپنی نجی زندگی کو علمی و دعوتی تعارف پر غالب نہیں آنے دیا۔
موجودہ علمی سرگرمیاں:
شیخ سلیمان الرحيلي حفظہ اللہ کی علمی و دعوتی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔ ان کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود تازہ مواد میں مسجد نبوی ﷺ کے دروس، مسجد قباء کے خطبات اور دیگر علمی محاضرات مسلسل درج ہیں۔جامعہ اسلامیہ کے سرکاری تعارف میں بھی آپ کا نام کلیۃ الشریعۃ، شعبہ اصولِ فقہ کے تحت درج ہے اور آپ کی علمی تخصص الفقہ وأصوله بیان کی گئی ہے۔
دعا: اللہ تعالیٰ شیخ سلیمان الرحيلی حفظہ اللہ کی حفاظت فرمائے، ان کے علم، عمر اور عمل میں برکت عطا فرمائے، ان کے ذریعے اسلام و مسلمانوں کو نفع پہنچائے، انہیں کتاب و سنت اور منہجِ سلف صالحین پر ثابت قدم رکھے، ان کی علمی و دعوتی خدمات کو شرفِ قبول بخشے اور انہیں صحت و عافیت کے ساتھ خیر پر قائم رکھے۔ آمین۔
ناشر: حافظ امجد ربانی




