سوال 7317

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : تم اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا پلاتا ہے۔ [جامع ترمذی: 2040]
اس حدیث کا حکم واضح کریں۔

جواب

یہ روایت کسی صحیح سند سے ثابت نہیں، امام ترمذی اس روایت کو اس سند سے بیان کرتے ہیں :
1 : حدثنا ابو كريب، حدثنا “بكر بن يونس بن بكير” ، عن موسى بن علي، عن ابيه، عن عقبة بن عامر الجهني، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم…
[جامع ترمذي : 2040، وسندہ ضعیف]
سند میں بكر بن يونس بن بكير ضعیف ہے۔
امام بخاری اسکو منکر الحدیث قرار دیا ہے

حَدَّثَنَا مُحَمد بْنُ عَبد اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، حَدَّثَنا مُحَمد بْنُ إسماعيل قَالَ بَكْر بْن يُونُس بْن بُكَير الْكُوفِيّ عَن مُوسى بن عُلَيّ منكر الحديث

[كتاب الكامل في ضعفاء الرجال : 198/2]
امام ابو حاتم الرازي نے اس کو منکر و ضعیف الحدیث قرار دیا ہے
[الجرح والتعديل لابن أبي حاتم : 2/ 393]
اس ہی طرح دیگر محدثین سے بھی اس راوی پر جرح ثابت ہے۔
اس روایت کو درج ذیل محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے
امام ابو حاتم الرازی نے اس روایت کو باطل قرار دیا ہے
[تهذيب التهذيب : 489/1]
امام ابن القطان اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے
[الوهم والإيهام : 596/3]
شارح مسلم، امام نووی نے اس روایت کو سخت ضعیف قرار دیا ہے
[خلاصة الأحكام للنووي : 921/2]
امام بیھقي نے اس روایت پر جرح کی ہے
[السنن الكبرى للبيهقي : 347/9]
امام مزي نے بکر بن یونس پر جرح کرکے نیچے یہ روایت نقل کی ہے
[تهذيب الكمال في أسماء الرجال : 233/4]
امام ابن عدی نے بھی جرح کی ہے
[كتاب الكامل في ضعفاء الرجال : 198/2]
امام ابن الجوزي نے بھی جرح کی ہے
[العلل المتناهية : 867/2]
ابن ملقن نے بھی جرح کی ہے
[تحفة المحتاج : 10/2]
ابن القيسراني نے بھی جرح کی ہے
[ذخيرة الحفاظ : 2637/5]
ابن مفلح نے بھی جرح کی ہے
[الآداب الشرعية 345/2]
صدر الدين المناوي نے بھی جرح کی ہے
[كشف المناهج والتناقيح : 93/4]
شارح ترمذی مبارکپوری نے اس روایت پر جرح کی ہے
[تحفة الأحوذي : 452/5]
مسند ابی یعلی کے محقق حسین اسد نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے
[مسند أبي يعلى : 1741]
شیخ زبیر علی زئی نے بھی اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے
[انوار الصحیفه : 241]
2 : اس روایت کا دوسرا طرق مسند بزار میں ہے،
حدثنا يحيى بن المعلى بن منصور، وأحمد بن الوليد البزار، إملاء قالا: نا محمد بن العلاء المديني، قال: نا الوليد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبيه، عن جده،
[مستدرك للحاکم : 8463، مسند البزار : 1010، اسناده ضعیف]
الوليد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف نامعلوم ہے
امام ہیثمی لکھتے ہیں:
فيه الوليد بن عبد الرحمن بن عوف ولم أعرفه ولا من روى عنه ، وبقية رجاله ثقات
[مجمع الزوائد : 89/5]
امام ابن حجر لکھتے ہیں :
الوليد لا أعرف حاله
[الفتوحات الربانية : 90/4]
3 : اس روایت کا تیسرا طرق الطب النبوي لأبي نعيم الأصفهاني میں موجود ہے۔
حدثنا سليمان بن أحمد، حدثنا أحمد بن داود المكي بمصر سنة ثمانين، حدثنا علي بن قتيبة الرفاعي، حدثنا مالك بن أنس، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم …
(الطب النبوي لابي نعيم : 698 ، وسنده ضعیف)
علي بن قتيبة الرفاعي منكر الحديث ہے، نیز امام ابن عدی نے ساتھ ہی اس طرح کی تمام روایات جو امام مالک کی طرف مسنوب ہیں، سب کو باطل قرار دیا ہے
[الكامل في ضعفاء الرجال : 354/6]
امام بیھقي فرماتے ہیں :
مرفوعا وهو باطل لا أصل له من حديث مالك.
اسے مرفوعاً روایت کیا گیا ہے، لیکن یہ باطل ہے، اور امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث میں اس کی کوئی اصل نہیں
(كتاب السنن الكبرى للبیهقي : 536/19)
امام مالک سے دیگر سندوں سے یہ روایت منقول ہے، جسکی سندیں سخت ضعیف ہیں، وہ وہاں پیش نہیں کی جا رہیں،
4 : اس روایت کا چوتھا طرق حلية الأولياء میں ہے،
حدثنا أحمد بن إسحاق ثنا محمد بن عبد الله بن مصعب ثنا أبو تراب الزاهد عسكر بن الحصين ثنا محمد بن نمير ثنا محمد بن ثابت عن شريك ابن عبد الله عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر قال قال رسول الله ﷺ
[حلية الأولياء : 221/10]
سند ضعیف ہے، شریک بن عبداللہ بن مدلس و مختلط ہیں، أعمش بھی مدلس ہیں، دونوں کا عنعنة ہے۔
5 : بظاہر اس روایت کا پانچواں طرق بھی ہے، مستدرك للحاکم سے یہ روایت اس سند سے بھی مروی ہے
حدثنا يحيى بن منصور القاضي، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كريب، حدثني يونس بن بكير، حدثنا موسى بن علي بن رباح، عن أبيه، عن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ
(المستدرك على الصحيحين : 1312، وسندہ ضعیف)
نسخے کی غلطی کی وجہ سے سند میں بکر بن یونس (ضعیف) کی بجائے یونس بن بکیر (ثقہ) لکھا گیا ہے، مکتبة رسالة کے حاشیے میں اسکی وضاحت موجود ہے، نیز موسى بن علي بن رباح سے روایت کرنے والوں بکر بن یونس ہیں، یونس بن بکیر نہیں
[سير أعلام النبلاء : 412/7]
المقصود یہ روایت کسی صحیح سند سے ثابت نہیں، سب سندوں میں ضعف ہے۔
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ