سوال 7564
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیوخِ کرام! بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے تحت مستحقین کو جو رقم ملتی ہے، وہ بعض اوقات ایجنٹوں کے ذریعے نکلوائی جاتی ہے۔ یہ ایجنٹ رقم نکالنے کے عوض 1000، 1500 یا 2000 روپے تک اپنی طرف سے رکھ لیتے ہیں۔
کیا اس طرح مستحق کی رقم میں سے اضافی رقم لینا شرعاً جائز اور حلال ہے یا حرام؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جو پیمنٹس حکومت کی طرف سے مستحق افراد میں تقسیم کی جاتی ہیں، اس کے رولز اینڈ ریگولیشنز میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے کہ ایجنٹ حضرات، یا جو لوگ اس حوالے سے ذمہ دار بنائے گئے ہیں، وہ مستحق کی رقم میں سے ایک ہزار، پندرہ سو یا دو ہزار روپے مائنس یا ڈیڈکٹ کریں۔
اگر وہ اپنے سروس چارجز لے رہے ہیں تو اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے اس پیمنٹ پر کوئی سروس چارجز نہیں ہیں، جتنا میں نے اس پر پڑھا ہے۔
لہٰذا مستحق کی رقم میں سے اس طرح اضافی رقم لینا جائز نہیں ہے۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ




