سوال 7568
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم! بعض اہلِ علم کی طرف سے یہ موقف بیان کیا جاتا ہے کہ داڑھی بڑھانے کا حکم وجوب کے بجائے استحباب اور سفارش کے لیے ہے۔ اس سلسلے میں درج ذیل دلائل پیش کیے جاتے ہیں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“داڑھی کو بڑھنے دو اور مونچھیں تراشو۔”
ان حضرات کے مطابق جمہور فقہاء نے اس طرح کے صیغہ امر کو وجوب پر محمول کیا، جبکہ شافعی فقہاء نے بعض ظاہری وضع قطع، لباس، خوراک اور عادات سے متعلق احکام کو وجوب کے بجائے استحباب پر محمول کیا ہے۔
نیز امام رملی کی طرف یہ قول منسوب کیا جاتا ہے:
«حَلْقُ اللِّحْيَةِ مَكْرُوهٌ لَا حَرَامٌ»
یعنی: “داڑھی منڈوانا مکروہ ہے، حرام نہیں۔”
اسی طرح نہایۃ المحتاج میں بھی داڑھی منڈوانے یا نوچنے کو مکروہ قرار دینے کی بات نقل کی جاتی ہے۔
براہِ کرم کتاب و سنت اور ائمہ شافعیہ کی معتبر کتب کی روشنی میں وضاحت فرمائیں کہ مذکورہ استدلال کس حد تک درست ہے؟ کیا واقعی شافعی مذہب میں داڑھی منڈوانا صرف مکروہ ہے یا اس کے حرمت کے بھی دلائل موجود ہیں؟
جزاکم اللہ خیراً
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، عام طور پر جب کوئی اختلاف ہوتا ہے تو جمہور کی رائے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ البتہ پہلے دلائل دیکھے جاتے ہیں، نصوص کو دیکھا جاتا ہے۔ اگر دلائل کی روشنی میں کوئی بات واضح نہ ہو تو پھر جمہور کی رائے کو لیا جاتا ہے۔
الأمر للوجوب ایک عام قاعدہ ہے، اگرچہ کبھی کبھی اس میں استثناء آ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں وجوب، یعنی فرضیت، دلائل کی رو سے ثابت ہوتی ہے۔
داڑھی کے بارے میں جو الفاظ ہیں، وہ وجوب کا تقاضا کرتے ہیں اور فرضیت کا تقاضا کرتے ہیں۔
اب فقہائے شافعی ہوں یا کوئی بھی فقہاء ہوں، وہ بعد میں آئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان سے پہلے اس کا کیا معنی لیا گیا تھا؟ صحابہ کے دور میں، تابعین کے دور میں اس کا کیا مفہوم تھا؟ فیصلہ تو وہاں جا کر ہوگا۔
ہمیں آپ فقہاء کے کھونٹے سے کیوں باندھنا چاہ رہے ہیں؟ فقہاء تو بعد میں آئے، جب یہ مسائل زیرِ بحث آئے۔ اس سے پہلے دین مکمل ہو چکا تھا۔ وہ کیا تھا؟ وہاں اس نص کا کیا معنی لیا گیا تھا؟ بس بات یہاں آ کر واضح ہو جائے گی۔
جیسے طلاق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جی، فقہائے اربعہ اور ائمہ اربعہ کے ساتھ نہیں ہیں۔ بھائی! نہ ہوں۔ قرآن و سنت تو پہلے ہی مکمل ہو چکے تھے۔ اس وقت نکاح بھی ہوتے تھے، طلاقیں بھی ہوتی تھیں۔ طریقہ کار کیا تھا؟
ہم تو اسی طریقہ کار پر چلتے ہیں۔ یہ بات ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
یہ سب من پسند استدلال و فقہ اور اختراعی اسلوب ہے قطع نظر کہ یہ واقعی مصر کے علماء کا موقف ہے عرض ہے کہ صحیح البخاری،صحیح مسلم کی احادیث میں مشرکین و مجوسیوں کی مخالفت کرنے کا اور داڑھیوں کو بڑھانے،مونچھوں کو پست کرنے کا حکم دیا گیا ہے
اور حکم سے وجوب لازم آتا ہے جب تک کوئی قرینہ و دلیل اسے استحباب کی طرف نہ پھیر دے اور اس مسئلہ میں سرے سے کوئی قرینہ و دلیل موجود نہیں ہے جو اسے استحباب کی طرف پھیر دے۔
رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم سے قطعا داڑھی کا خط، اسے تراشنا اور منڈوانا ثابت نہیں ہے ۔
تو جب صحیح احادیث (بخاری شریف 5892، مسلم شریف 259) میں مشرکین کی مخالفت کرنے کا حکم ہے اور صحیح مسلم :(260) میں ہی اہل مجوس کی مخالفت کا حکم ہے تو داڑھی کا مونڈھنا،تراشنا حرام و سخت گناہ ثابت ہوا کہ حکم مصطفی صلی الله علیہ وسلم کی عمدا مخالفت کی جا رہی ہے ۔
مسند أحمد بن حنبل :(22283) وغیرہ
میں حسن لذاتہ درجہ کی حدیث کے الفاظ ملاحظہ کریں
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے کہا:
ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺇﻥ ﺃﻫﻞ اﻟﻜﺘﺎﺏ ﻳﻘﺼﻮﻥ ﻋﺜﺎﻧﻴﻨﻬﻢ ﻭﻳﻮﻓﺮﻭﻥ ﺳﺒﺎﻟﻬﻢ. ﻗﺎﻝ: ﻓﻘﺎﻝ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ: ﻗﺼﻮا ﺳﺒﺎﻟﻜﻢ ﻭﻭﻓﺮﻭا ﻋﺜﺎﻧﻴﻨﻜﻢ ﻭﺧﺎﻟﻔﻮا ﺃﻫﻞ اﻟﻜﺘﺎﺏ
اس حدیث مبارکہ میں بھی واضح طور پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے داڑھی کو بڑھانے اور اہل کتاب کی مخالفت کا حکم دیا ہے ۔
قرآن کریم میں رب العالمین نے یہود ونصاری،اور کفار کو دوست نہ بنانے کا حکم ہے ۔
دیکھیے آل عمران:(28)، النساء:(144)، المائدہ:(51) ،الممتحنہ:(1)
بلکہ قرآن کریم میں رب العالمین نے ان کفار کی دین دشمنی اور گستاخیاں یوں بیان کیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کو جنھوں نے تمھارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا، ان لوگوں میں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور کفار کو دوست نہ بناؤ اور الله سے ڈرو، اگر تم ایمان والے ہو۔
[المائدہ: 57]
اس آیت کی تفسیر میں مفسر قرآن، شارح صحیح البخاری شیخ الحدیث حافظ عبد السلام بن محمد بھٹوی رحمة الله عليه لکھتے ہیں:
اوپر کی آیات میں خاص طور پر یہود و نصاریٰ کی دوستی سے منع فرمایا، اب یہاں تمام کفار کی دوستی سے منع فرمایا ہے۔ اس آیت کی رو سے ان بے دین لوگوں اور اہل بدعت سے دلی دوستی رکھنا بھی جائز نہیں جنھوں نے دین کو ہنسی کھیل بنا رکھا ہے، کبھی داڑھی کا مذاق اڑاتے ہیں، کبھی مسنون لباس کا اور کبھی اﷲ تعالیٰ کی حدود کا۔ اسی طرح سنت کے مطابق نماز کا مذاق اڑاتے ہیں اور جو شخص پیدائش، نکاح اور موت کے وقت کفار خصوصاً ہندوؤں کی رسموں میں ان کا ساتھ نہ دے، اس کا مذاق اڑاتے ہیں تو جب ان میں بھی وہی وصف پایا جاتا ہے جو اہل کتاب اور کفار میں پایا جاتا ہے تو ان کا حکم بھی وہی ہونا چاہیے جو اہل کتاب اور کفار کا ہے۔
[تفسیر القرآن الکریم تفسیر سورۃ المائدہ: 57]
معلوم ہوا رسول اکرم صلی الله علیہ کے حکم کی مخالفت در حقیقت قرآن کریم کے حکم کی مخالفت ہے ۔
جب داڑھی منڈوانا اہل کفار،اور مجوس کا طریقہ و شیوہ ہے تو قرآن کریم نے ان سے ہر باطل عقیدہ و نظریہ اور عمل میں بائکاٹ کرنے اور مخالفت کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے یہی معنی و تفسیر اس مسئلہ میں سب سے بڑے فقیہ و محدث اور امام سیدنا محمد کریم صلی الله علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور بتایا ہے ۔
بس اس اصول و نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
پھر صریح ہدایت اور حکم مصطفی صلی الله علیہ وسلم اور عقائد واحکام میں صحابہ کرام کی پیروی نہ کرنے کا انجام قرآن کریم میں جہنم بیان ہوا ہے میری مراد ارشاد باری:
وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا [النساء:115]
کی طرف ہے
اس آیت کی تفسیر،تفسیر القرآن الکریم از شیخ الحدیث حافظ عبد السلام بن محمد بھٹوی رحمة الله عليه پڑھنے کے لئے ہے۔
یعنی اتباع رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین کے راستے و فھم سے ہٹنا بھی گمراہی ہے۔
ایک اور بات جمیع قرآن کریم کی آیات اور احادیث صحیحہ میں یہود ونصاری اور مشرکین و کفار سے دوستی نہ لگانے اور ان کی مخالفت سے مراد ان کے باطل عقائد ونظریات اور طریقوں کی مخالفت کرنا ہے
سیدنا ابن عمر رضی الله عنہ نے یہی مسئلہ سمجھایا ہے
ملاحظہ کریں:
حدثنا أبو الأحوص عن آدم بن علي ( العجلي ثقة ) قال: سمعت ابن عمر يقول: خالفوا سنن المشركين۔
ابن عمر رضی الله عنہ جیسے جلیل القدر عالم و محدث صحابی نے فرمایا:
تم مشرکین کے عقائد ونظریات،طور ،طریقوں کی مخالفت کرو
مصنف ابن أبي شيبة :(37375) صحيح
اس مسئلہ کی تفصیل مستقل کتب میں ملاحظہ کر سکتے ہیں
داڑھی منڈوانا حرام اور یہود ونصاری اور مجوسیوں کے ساتھ مشابہت ہے( اس متعلق من تشبه بقوم فهو منهم سنن أبو داود:4031 حدیث صحیح پر بھی غور کریں ) اور ان سب کفار کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے جس پر عمل واجب ہے۔
اس کے علاوہ داڑھی منڈوانا خواتین کے ساتھ مشابہت ہے اور عورتوں کے ساتھ مشابہت کرنے پر حدیث میں کرنے وارد ہوئی ہے
دیکھیے صحیح البخاری:(5885)
صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین دین اسلام کے اولین مخاطب تھے سو انہوں نے جس طرح دین اسلام،احکام شرعیہ اور عقائد وایمانیات کو سمجھ کر عمل کیا اسی طرح عمل کرنے میں نجات ہے اور جانیں کہ فھم دین میں صحابہ کرام کی مخالفت صریح گمراہی ہے۔
ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ داڑھی منڈوانا تو دور کی بات کسی ایک صحابی سے جو اس باب کی احادیث جانتا تھا اس سے دارڑھی کا خط تک کروانا ثابت ہے سواے ابن عمر رضی الله عنہ کے عمل کے جو خاص حج کے دوران واقع ہوا وہ بھی تقصیر کے معنی میں سمجھتے ہوئے ورنہ اگر وہ عمل نص کی پیروی میں ہوتا تو عام گیارہ مہینوں میں بھی وہ ایسا کرتے جبکہ ان سے ایام حج کے علاوہ داڑھی کو قبضہ سے زیادہ کاٹنا قطعا ثابت نہیں ہے۔
قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کا وہی معنی ومفہوم معتبر ہے جو صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اجمعین کے قول و عمل سے ملے اور سلف صالحین سے منقول ہو البتہ کسی اجتہادی مسئلہ کے اختلاف میں ہم اقرب الی الحق کی پیروی کریں گے ۔
المختصر:
داڑھی مونڈنے کا تصور دین اسلام،تعامل صحابہ کرام رضوان الله تعالی علیھم اور خیر القرون کے مسلمانوں سے ہرگز نہیں ملتا ہے جو یہ غلط عمل کرتا ہے اور اس کا غلط دفاع کرتا ہے وہ گمراہ کن فکر کی طرف دعوت دینے والا اور حرام فعل کا مرتکب ہے جس سے توبہ کرنا واجب ہے۔
رب العالمین ہمیں صحابہ،اہل بیت کی طرح قرآن وحدیث کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائیں ۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




