سوال 7565

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
تخریج و تحقیق؟

عن حذيفة أنه رأى رجلا في يده خيط من الحمى فقطعه وتلا قول اللّٰه تعالى : وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرَهُمْ بِاللّٰهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ۔

جواب

مجھے آپ کے ذکر کردہ الفاظ سے روایت نہیں ملی ہے البتہ ایک سند سے اس کے قریب روایت ملی مگر اس کی سند منقطع ہے۔
تفصیل ملاحظہ کریں
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﺇﺷﻜﺎﺏ، ﺛﻨﺎ ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺛﻨﺎ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ، ﻋﻦ ﻋﺎﺻﻢ اﻷﺣﻮﻝ، ﻋﻦ ﻋﺰﺭﺓ ﻗﺎﻝ: ﺩﺧﻞ ﺣﺬﻳﻔﺔ ﻋﻠﻰ ﻣﺮﻳﺾ ﻓﺮﺃﻯ ﻓﻲ ﻋﻀﺪﻩ ﺳﻴﺮا ﻓﻘﻄﻌﻪ ﺃﻭ اﻧﺘﺰﻋﻪ، ﺛﻢ ﻗﺎﻝ: ﻭﻣﺎ ﻳﺆﻣﻦ ﺃﻛﺜﺮﻫﻢ ﺑﺎﻟﻠﻪ ﺇﻻ ﻭﻫﻢ ﻣﺸﺮﻛﻮﻥ
[تفسير ابن أبي حاتم: 12040 سنده منقطع]
عزرہ بن عبدالرحمن زرارہ الخزاعی کی عموما روایت تابعین سے ہے کسی صحابی سے ان کی ملاقات ثابت نہیں بلکہ حافظ مزی نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے روایت مرسل ہونا بتائی ہے ۔
[تهذيب الكمال: 3920]
اور حافظ ذہبی نے کہا: ﻋﻦ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﻣﺮﺳﻼ
[تاريخ الإسلام :7/ 170]
البتہ دوسرے طرق واسانید سے یہ روایت ان الفاظ سے مروی ہے
حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي ظبيان عن حذيفة، قال: دخل (علي) على رجل يعوده، فوجد في عضده خيطا قال: فقال: ما هذا؟ قال: خيط رقي لي فيه، فقطعه ثم قال: لو مت ما صليت عليك
مصنف ابن أبي شيبة :(25007) ت: الشثری
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ، ﻗﺎﻝ ﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ، ﻋﻦ ﺳﻔﻴﺎﻥ، ﻋﻦ اﻷﻋﻤﺶ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻇﺒﻴﺎﻥ، ﺃﻥ ﺣﺬﻳﻔﺔ ﺩﺧﻞ ﻋﻠﻰ ﺭﺟﻞ ﻳﻌﻮﺩﻩ، ﻓﺮﺁﻩ ﻗﺪ ﺟﻌﻞ ﻓﻲ ﻋﻀﺪﻩ ﺧﻴﻄﺎ ﻗﺪ ﺭﻗﻲ ﻓﻴﻪ، ﻗﺎﻝ: ﻓﻘﺎﻝ: ﻣﺎ ﻫﺬا؟ ﻗﺎﻝ: ﻣﻦ اﻟﺤﻤﻰ. ﻓﻘﺎﻡ ﻏﻀﺒﺎﻥ , ﻭﻗﺎﻝ: ﻟﻮ ﻣﺖ، ﻣﺎ ﺻﻠﻴﺖ ﻋﻠﻴﻚ
السنة للخلال:(1624) ،الإبانة الكبرى لابن بطة:(1031)
ﻋﻴﺴﻰ ﺑﻦ ﻳﻮﻧﺲ، ﻋﻦ اﻷﻋﻤﺶ کے طریق سے
مسائل حرب للكرماني:2/ 819 میں اور وکیع عن الأعمش کے طریق سے بھی مروی ہے( السنة للخلال :1482)
تو امام سفیان ثوری اعمش سے روایت میں أعلم و أثبت ہیں
امام عبد الرحمن بن مھدی نے کہا:
ﺭﺃﻳﺖ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﻟﺸﺊ ﻣﻦ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﺃﺣﻔﻆ ﻣﻨﻪ ﻟﺤﺪﻳﺚ اﻷﻋﻤﺶ.
تقدمة الجرح والتعديل :1/ 63
ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﺘﺎﺏ اﻷﻋﻴﻦ نے امام أحمد بن حنبل سے کہا:
ﻣﻦ ﺃﺣﺐ اﻟﻨﺎﺱ ﺇﻟﻴﻚ ﻓﻲ ﺣﺪﻳﺚ اﻷﻋﻤﺶ؟ ﻗﺎﻝ: ﺳﻔﻴﺎﻥ، ﻗﻠﺖ ﺷﻌﺒﺔ؟ ﻗﺎﻝ: ﺳﻔﻴﺎﻥ.
تقدمة الجرح والتعديل :1/ 63 ، 64
امام یحیی بن معین نے کہا:
ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﺃﺣﺪ ﺃﻋﻠﻢ ﺑﺤﺪﻳﺚ اﻷﻋﻤﺶ ﻣﻦ اﻟﺜﻮﺭﻱ.
تقدمة الجرح والتعديل:1/ 64
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﻧﺎ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﻗﺎﻝ ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻳﻘﻮﻝ: ﻛﺎﻥ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﻳﺄﺗﻴﻨﻲ ﻫﻬﻨﺎ ﻓﻴﺬاﻛﺮﻧﻲ ﺣﺪﻳﺚ اﻷﻋﻤﺶ ﻓﻤﺎ ﺭﺃﻳﺖ ﺃﺣﺪا ﺃﻋﻠﻢ ﺑﺤﺪﻳﺚ اﻷﻋﻤﺶ ﻣﻨﻪ.
تقدمة الجرح والتعديل:1/ 64
امام أبو حاتم الرازی نے کہا:
ﺃﺣﻔﻆ ﺃﺻﺤﺎﺏ اﻷﻋﻤﺶ اﻟﺜﻮﺭﻱ.
تقدمة الجرح والتعديل:1/ 64
ایسے ہی ابو معاویہ بھی أصحاب اعمش میں اثبت ہیں
معلوم ہوا کہ امام سفیان ثوری اعمش کی مرویات کا خوب علم و معرفت رکھنے والے اور حافظ و عالم تھے
بہرحال یہ روایت صحیح ہے
اور مصنف ابن أبی شیبہ کے محقق سعد الشثری صاحب نے بریکٹ میں سیدنا علی المرتضی رضی الله عنہ کا اضافی کیا ہے اور بتایا کہ یہ اضافہ بعض نسخوں میں ساقط ہو کر رہ گیا ہے جبکہ امام ثوری کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ہے تو ممکن ہے راوی نے دونوں طرح بیان کر دیا ہو ۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ