سوال 7566
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا اجنبی میت یعنی غیر رشتے دار میت کی طرف سے مالی صدقہ کرنا جائز ہے دلیل سے واضح کر دیں۔ جزاکم اللہ خیرا
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگرچہ جمہور اہلِ علم یہی فتویٰ دیتے ہیں کہ میت کی طرف سے، خواہ وہ اپنا ہو یا بیگانہ، مالی صدقہ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن اس کی جو دلیل پیش کی جاتی ہے، وہ عموماً وہی ہے جس میں بیٹے کا ذکر ہے، یا ماں باپ کا ذکر ہے۔ بچوں نے پوچھا، سوال کیا، اس طرح کے واقعات ہیں۔
تو بہتر یہی ہے کہ خونی رشتے، اقارب اور اعزہ ہی تک اس معاملے کو محدود رکھا جائے۔ یعنی صدقہ و خیرات کا بیڑا وہی لوگ اٹھائیں جو اقارب ہیں، اعزہ ہیں، رشتہ داریاں ہیں اور جن کی آپس میں خونی رشتہ داری ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
زندگی میں قرابت داروں اور دیگر مستحقین کی مالی معاونت کرنا تو قرآن مجید احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے
مگر غیر رشتہ دار میت کی طرف سے صدقہ کرنے کی دلیل چاہیے ہے۔
غیر رشتہ دار اگر مومن اور موحد تھا اور ایمان پر فوت ہوا ہے تو اس کے لئے بخشش و رحمت کے دعا کریں جو قرآن وحدیث اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے۔
البتہ اگر فوت ہونے والا خود کوئی نیک آثار پیچھے چھوڑ گیا تو اس کو برابر اجر وثواب ملتا رہے گا کیونکہ وہ اس کی اپنی مبارک کوشش تھی ۔
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




