سوال 7459
السلام علیکم و رحمة اللّٰه و برکاته.
احسن اللّٰه الیکم.
بیع وقف کیا چیز ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مثال کے طور پر کوئی زمین ہے۔ آپ نے کہا کہ یہ راہِ للہ وقف ہے، یعنی آپ نے اس زمین کو وقف کر دیا اور یہ بھی طے کر دیا کہ اس کی آمدنی اللہ کی راہ میں خرچ کی جائے گی، جہاں جہاں میری توفیق ہوگی میں اسے لگاتا رہوں گا۔
جب آپ اس طرح کہہ دیتے ہیں اور زمین کو وقف کر دیتے ہیں، تو پھر وہ زمین بیچی نہیں جا سکتی۔ شرعاً بھی وہ وقف ہو جاتی ہے اور قانونی اعتبار سے بھی اس کی حیثیت وقف کی ہوتی ہے۔
لہٰذا اگر کوئی شخص وقف شدہ زمین کو بیچ دے تو اسے کہا جائے گا کہ بھائی! یہ تو وقف کی زمین ہے، تم نے وقف شدہ زمین فروخت کر دی، جو ناجائز ہے۔
وقف شدہ چیز کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اسے نہ بیچا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے اور نہ بطورِ عطیہ کسی دوسرے کی ملکیت میں دیا جا سکتا ہے۔ یہ احکامات قانون میں بھی موجود ہیں اور شرعاً بھی یہی اصول ہے۔
البتہ مجبوری اور ضرورت کی صورتوں کے احکامات الگ ہوتے ہیں، ان کے لیے شریعت نے اپنے مخصوص اصول اور شرائط بیان کی ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

