سوال 7468

الســـلام علیکم میرا سوال یہ ہے تحفہ بغیر طلب کے اگر واپس کر دیا جائے تو کیا تحفہ دینے والا واپس کیا گیا تحفہ واپس رکھ لے؟ جب کہ نہ بات کی نہ واپسی کا تقاضا کیا؟ تو کیا ایسی صورت میں بھی وہ قے کی مثل ہوگا؟

جواب

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
إنما الأعمال بالنيات کی روشنی
میں اگر تحفہ دینے والے کا ارادہ واپس لینے کا نہیں تھا اور لینے والا خود واپس کر رہا ہے تو یہ تحفہ دینے والے کے لیے مذموم و غلط نہیں ہے۔
بلکہ یہ اس تحفہ دینے والے کے اخلاص و محبت کا احترام نہ کرنا اور اسے اذیت سے دوچار کرنا ہے۔
ایسے لوگوں کو بلا عذر شرعی کے تحفہ واپس نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ تحفہ دینے والا تو اپنی محبت کا اظہار کر رہا ہے اور آپ کی خوشی کا خواہاں ہے جیسا کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کو لوگ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا کی باری میں تحائف بھیجتے تا کہ انہیں رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل ہو جائے ۔
دیکھیے
[صحیح البخاری : 2574، باب قبول الهدية]
یاد رکھیں اگر تحفہ غیر شرعی چیزوں پر مشتمل نہیں ہے تو اسے واپس نہیں کریں ۔
بھیجا گیا تحفہ خوبصورت اور قابل دید ہے تو اسے خندہ پیشانی سے قبول کریں اور واپس نہ کریں
سیدنا انس بن مالک رضی الله عنہ تحفہ میں دی گئی خوشبو واپس نہیں کرتے تھے اور کہتے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھی خوشبو کا تحفہ واپس نہیں کرتے تھے ۔
[صحیح البخاری : 2582]
اس مسئلہ کے متعلق تفصیل کتب احادیث و شروحات میں ملاحظہ کریں۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ