سوال 7301

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال یہ ہے کہ بلی خرید کر گھر میں پالنا کیسا ہے؟
عموماً جو لوگ بلی خریدتے ہیں گھروں میں پالنے کے لیے ان کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اس رنگ کی بھی وضاحت کردینا۔ جزاک اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بلی کو گھر میں پالنے کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ اگر بلی خود سے آ جائے یا راستے میں مل جائے اور آپ اسے گھر لے آ کر پال لیں، اسکی خوراک کا مکمل انتظام رکھیں تو یہ جائز ہے، بلی کو پالنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے، البتہ بلی کی خرید و فروخت حرام ہے، گھر میں جانور یا پرندے پالنا جائز ہے بشرطیکہ ان کی خوراک کا مکمل بندوبست ہو، حدیث میں ہے ایک عورت نے بلی کو باندھے رکھا، کھانے پینے کو کچھ نہ دیا اور نہ چھوڑا کہ زمین سے وہ اپنی روزی حاصل کرے۔ اس کے سبب وہ دوزخ میں چلی گئی۔ الفاظ حدیث ملاحظہ فرمائیں:

عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِی هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّی مَاتَتْ، فَدَخَلَتْ فِیهَا النَّارَ، لاَ هِیَ أَطْعَمَتْهَا وَلاَ سَقَتْهَا، إِذْ حَبَسَتْهَا، وَلاَ هِیَ تَرَکَتْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْض

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک عورت کو عذاب، ایک بلی کی وجہ سے ہوا جسے اس نے اتنی دیر تک باندھے رکھا تھا کہ وہ بھوک کی وجہ سے مر گئی۔ اور وہ عورت اسی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تھا اور اللہ تعالیٰ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ جب تو نے اس بلی کو باندھے رکھا اس وقت تک نہ تو نے اسے کھلایا نہ پلایا اور نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا کر اپنا پیٹ بھر لیتی۔
[صحيح البخاري حدیث نمبر : 2365]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانور کے کھانے پینے کا انتظام ہو تو پھر گھر میں رکھنے کا کوئی حرج نہیں، اس ہی طرح ایک اور حدیث میں تذکرہ موجود ہے کہ صحابی رسول ﷺ نے چڑیا پالی ہوئی تھی۔

إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُخَالِطُنَا حَتَّى يَقُولَ لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم بچوں سے بھی دل لگی کرتے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی ابوعمیر نامی سے (مزاحاً) فرماتے «يا أبا عمير ما فعل النغير‏”‏‏.‏» ”اے ابو عمیر! تیری نغیر نامی چڑیا تو بخیر ہے؟“
[صحيح البخاري حدیث نمبر : 6129]
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں

كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ وَأَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُونَ الطَّيْرَ فِي الْأَقْفَاصِ

مکہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پرندے پنجروں میں رکھتے تھے
[الأدب المفرد للبخاري حدیث نمبر : 383]
المقصود کہ بلی کی خرید و فروخت جائز نہیں،
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت (لینے) سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود حدیث نمبر : 3479]
کالی بلی پالنے کا حکم بھی وہی ہے جو کسی بھی دوسری بلی کا ہے، البتہ کالی بلی کو منحوس سمجھنا یا اس سے بدفالی لینا شرعاً درست نہیں۔ اسلام نے بدفالی کی نفی کی ہے،
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدفالی شرک ہے
(جامع ترمذی حدیث نمبر : 1614)
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ بلی گھر میں رکھی جا سکتی ہے، پالی جا سکتی ہے۔ البتہ جب گھر میں رکھیں گے تو اس کا کھانا پینا ہمارے ذمے ہوگا یعنی جو پالنے والے ہوں گے۔ لیکن بلی کی خرید و فروخت ناجائز ہے۔ حدیث کی رو سے: نہیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن ثمن السنور۔
نبی علیہ السلام نے بلے کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔ بلیاں خریدنا، بیچنا یہ جائز نہیں ہے، کہیں سے آ گئی راستے میں تھی، آپ نے اٹھا لی۔ بس اتنی ہی گنجائش ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ