سوال 7465
اگر میاں بیوی میں سے شوہر کا انتقال ہو جائے اور بیوی عدت کے دوران اپنے مرحوم شوہر کے لیے قرآنِ مجید کی تلاوت یا دیگر نیک اعمال کرتی رہے، تو کیا ان اعمال کا ثواب اس کے شوہرِ مرحوم کو پہنچتا ہے؟ براہِ کرم اس کی شرعی وضاحت فرما دیں۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، قرآن پڑھ کر بخشنا تو ایک مروجہ طریقہ ہے جس کو ہم بدعت کہتے ہیں۔
البتہ آلِ اولاد اور خونی رشتے جو بھی ہیں، یہ جب نیکیاں کرتے ہیں اور ان کے دل میں ارادہ ہوتا ہے کہ فلاں کو اللہ تعالیٰ ثواب دے، اجر دے اور اس کی مغفرت فرمائے، تو امید ہے کہ اسے اجر ملے گا۔ بلکہ یہ نیت نہ بھی کرے، لیکن جانے والے کی تعلیم و تربیت سے فائدہ اٹھا کر یہ نیک کام کر رہا ہو، تو بھی ان شاء اللہ اسے اجر ملے گا، چاہے وہ شوہر ہو یا بیوی ہو۔
جیسے استاد عام طور پر اجنبی ہوتا ہے، لیکن اسے اجر ملتا ہے، کیونکہ اس نے بچے کو پڑھایا ہوتا ہے۔ بچے کی تعلیم و تربیت میں چونکہ اس کا حصہ ہے، اس لیے جب بچہ کوئی نیک کام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ استاد کو بھی اجر عطا فرماتا ہے۔
اسی طرح بیوی جب کوئی نیک کام کرے گی تو شوہر کا بھی یقیناً اس میں حصہ ہو سکتا ہے؛ اس کی تعلیم، تربیت، نگرانی اور مختلف اعتبار سے اس کا حصہ رہا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی رحمتِ واسعہ پر نظر رکھیں، امید ہے کہ وہ محروم نہیں رہے گا اور اسے بھی اجر و ثواب حاصل ہوگا، ان شاء اللہ
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

