سوال 7556
سید نا ابن عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جو شخص ہر نماز کے بعد اور اپنے بستر پر سونے سے پہلے تین بار کہے:
اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا ، عَدَدَ الشَّفْعِ وَالْوِتْرِ ، وَكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الطَّيِّبَاتِ الْمُبَارَكَاتِ،
اللہ اکبر کبیرا جفت اور طاق کی گنتی کے برابر اور اللہ کے ان کلمات کے برابر جو کمل، پاکیزہ اور بابرکت ہیں اور لا إِلهَ إِلَّا الله بھی اسی طرح کہے، اس کے لیے یہ کلمات:
قبر میں نور، پل پر نور، (جہنم کے اوپر ) پل صراط پر نور بن جائیں گے
یہاں تک یہ کلمات اس کو جنت میں داخل کر دیں گے یا وہ خود جنت میں داخل ہو جائے گا۔
المصنف لابن أبي شيبة، ج : 10-29744]
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا یہ دعا مستند ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعض اہل علم نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے اور غالباً موقوف ہے، البتہ حسن درجے کی ہے، لہٰذا یہ کلمات پڑھے جا سکتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
بعض اہل علم نے صحیح، بعض نے حسن اور بعض نے شبہ انقطاع کے سبب ضعیف قرار دیا ہے.
محمد بن عبد الرحمن کا طیسلہ سے لقاء و سماع ثابت نہیں ہے۔
دوسرا یہ سند و متن کے اعتبار سے غرابت و نکارت رکھتی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی الله عنہ کے جو کثیر الصحبۃ کثیر الروایۃ، کثیر المجلس تلامذہ ہیں وہ اس روایت کو بیان نہیں کرتے ہیں جیسے امام نافع،ان کے بیٹے سالم،عبد الله بن دینار،عمرو بن دینار اور دیگر ثقات حفاظ،
ایسے ہی اس روایت کے متن میں عدد الشفع والوتر کے الفاظ غریب جدا ہیں جس کی مثال اذکار ثابتہ میں نہیں ملتی ہے جو فرض نماز کے بعد پڑھے جاتے ہیں۔
اس لئے جو مسنون دعائیں باسند صحیح یا حسن لذاتہ ثابت ہیں وہی کافی ہیں بس انہیں یاد کر کے معمول کے ساتھ فرضوں کے بعد پڑھا جائے۔
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




