سوال 7347
چند سال پہلے میں نے ایک فون لیا تھا جو کے( سی پی ائ دی )(cpid)تھا ۔ اب یہ جو فون (cpid) ہیں وہ حکومت پاکستان نے غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ میں اب یہ فون کسی کو بیچ سکتا ہوں اس شخص کو بتا کے کے یہ فون (cpid) ہے اور کیا میرا یہ فون بیچنا ٹھیک رہے گا۔ مارکیٹ میں ابھی بھی فون کی خرید و فروخت چلتی ہے۔
مجھے اس کا اتنا علم نہیں تھا کے یہ کسی طرح کا فون ہوتا ہے۔بس تھوڑا تھوڑا علم ہی تھا
میں نے کافی جگہ سے پوچھا بھی ہے کے اس کو PTA سے کروا سکتے مگر یہ فون ڈیمو ہے جو کے approv نہیں ہو سکتا اور اب اس کا میں کیا کر سکتا
اور اگر یہ فون بیچنا ٹھیک نہیں ہے تو کیا میں اس پارٹس میں سیل کر سکتا ہوں؟
جواب
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر یہ فون استعمال ہو سکتا ہے، ضرورت پوری کر سکتا ہے تو آپ اسے استعمال کر لیں۔ ایک صورت تو یہ ہے۔ آپ اپنے طور پہ استعمال نہیں کرنا چاہتے کسی اور کو ویسے ہی دے دیں وہ استعمال کر لے گا۔ استعمال کی چیز ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ آپ نے کہا کہ اس کو میں سکریپ میں شاید آپ نے کہا یا کسی اور چیز میں بیچ سکتا ہوں۔ یہ آخری صورت ہے اگر چیز کھل جاتی ہے تو کوئی اور صورت اختیار کر جاتی ہے تو یہ صورت بھی جائز ہے آپ اسے سکریپ میں بیچ سکتے ہیں۔ تینوں صورتیں بہرحال جواز کا درجہ رکھتی ہیں، گنجائش کا درجہ رکھتی ہیں۔ تو جیسے ہو ویسے کر لیا جائے کیونکہ آپ نے قصداً و ارادتاً ایسا نہیں کیا تھا نہ کوئی باقاعدہ یہ آپ کا سلسلہ ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الجواب بعون الوھاب
Non-Pta اور CPID
ان دونوں میں بہت فرق ہے نان پی ٹی اے موبائل استعمال کرنا ہمارے نزدیک جائز اور درست ہے اور اس کی خرید و فروخت پر کوئی ممانعت بھی نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی شخص پی ٹی اے ٹیکس کے بغیر کسی دوسرے ملک کا موبائل استعمال کرتا ہے تو جائز ہے کیونکہ اس میں سمیں بند کردی جاتی ہیں۔تو یہ اس کی مرضی ہے کہ ٹیکس دے کر پی ٹی اے کروا لے یا نان پی ٹی اے چلائے ۔
البتہ کسی اور موبائل کا IMEI اس میں لگا کر غیر قانونی طور پر سمیں استعمال کرنا درست اور جائز نہیں۔
اس کی سب سے بہترین صورت ہمارے نزدیک یہ ہے آپ اسے Non-Pta کروا کر سیل کریں جو کسی دوسرے موبائل کا IMEI اس میں لگا ہے وہ ختم کروا دیں۔ان شاء اللہ اللہ رب العزت کرم فرمائے گا۔
والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم محمد سفیان بن امان اللہ حفظہ اللہ
سائل: محترم CPID فون کو درآمد کرنے سے پہلے ہی اس میں کسی سستے موبائل کا IMEI لگا کر اسے Patch کیا جاتا ہے اور پھر اس سستے فون کا ٹیکس باقاعدہ FBR کو ادا کیا جاتا ہے۔ تو اب اس کے استعمال کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: اصل فون کی شناخت چھپا کر سستے فون کا ٹیکس دینا یہ جعل سازی اور دھوکہ ہے۔
کیونکہ آپ نے ٹیکس اس چیز کا ادا کیا ہی نہیں بلکہ سستے فون کا ادا کیا ہے اس کا IMEI استعمال کرنا درست اور جائز نہیں۔
فضیلۃ العالم محمد سفیان بن امان اللہ حفظہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کے سوال میں دو باتیں ہیں اس میں۔ ایک تو اس کا شرعی اعتبار سے حکم اور دوسرا قانونی اعتبار سے حکم۔ اچھا اگر اس فون کا استعمال قانوناً ممنوع ہے اور اس کی خرید و فروخت بھی ممنوع ہے تو ایسی چیز کو بطور قابل استعمال فون فروخت کرنا درست نہیں۔ اگرچہ آپ خریدار کو یہ بتا بھی دیں کہ یہ سی پی آئی ڈی فون ہے کیونکہ مسلمان کو ایسے کسی معاملے میں تعاون نہیں کرنا چاہیے جو قانون شکنی یا ناجائز استعمال کا ذریعہ بنے۔ اور بالخصوص جو حالات حاضرہ میں جتنی بھی دہشت گردیاں ہو رہی ہیں۔ ان دہشت گردی میں بنیاد جو ہے وہ انہی جدید جو اتصالات کے آلات ہیں وہ بنیاد بن رہے ہیں۔ اچھا جہاں تک بات ہے آپ کو اس کی حقیقت کا پہلے علم نہیں تھا اور آپ نے اس کو استعمال کے لیے خریدا تو آپ اس کے خریدنے کے اعتبار سے تو گنہگار نہیں ہیں۔ لیکن آپ اگر اس کو اس اب تو آپ جان گئے ہیں۔ اب اگر آپ اس کو بیچتے ہیں تو اب آپ کے اوپر ذمہ داری بھی آئے گی۔ اور شرعی اعتبار سے یہ گناہ بھی ہو گا۔ لیکن اگر آپ اس کے اس کے پارٹس بیچتے ہیں اور وہ پارٹس بھی کسی قانونی اعتبار سے کسی گرفت میں نہیں آ رہے کسی اعتراض کی زد میں نہیں ہیں تو اس کے پارٹس جو ہیں وہ بیچے جا سکتے ہیں۔ تو جہاں تک بات ہے شریعت کے اعتبار سے تو شرعی حکم جو ہے وہ اہ قانونی اہ حکم کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے۔ کہ جو بات حکومت وقت نے جائز نہیں قرار دی اور اس اس میں ان کے جائز قرار نہ دینے میں شریعت کے کسی بنیادی اصول کی مخالفت بھی نہیں ہو رہی تو شریعت کا حکم بھی قانونی اعتبار سے حکومت پاکستان کی حکومت کی تائید میں ہو گا۔ تو نہ شرعی اعتبار سے نہ قانونی اعتبار سے اس فون کی خرید و فروخت جائز ہے۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ
سائل: السلام علیکم محترم!
اچھا تو پھر حلال چیز کی تجارت دوسرے ممالک یا اپنے ملک دینے کیلئے بھی وہ حکومت ٹیکس دیا جاتا ہے۔ اگر نہ دے تو غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔جیسے پیٹرول ایرانی ہے کچھ سمگنلگ کرکے لاتے ہیں۔
تب انکے بارے میں کیا نقطعہ نظر کیا ہے؟
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اچھا اس میں نا دو باتوں کو آپ الگ الگ ہینڈل کیجیے۔ ایک ہے حلال چیز کی تجارت جیسا آپ نے پیٹرول کی مثال دی ہے۔ تو پیٹرول کی تجارت اپنی اصل کے اعتبار سے تو جائز ہے۔ اچھا اس میں دوسرا جو مسئلہ ہے وہ قانونی طور پر اس کی حیثیت یعنی ٹیکس کسٹم یا جو قوانین ہیں ان کی خلاف ورزی۔ اب اگر حکومت کسی حلال چیز کی درآمد پر ٹیکس یا کسٹم ڈیوٹی مقرر کرتی ہے تو اصل یہ ہے کہ جب تک وہ ٹیکس کسی صریحی ظلم یا شریعت کی خلاف ورزی یا کسی شریعت کے کسی خلاف حکم پر مبنی نہ ہو تو اس کی خلاف ورزی کرنا، اسمگلنگ کرنا اور قانون توڑنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا جو فرمان ہے یا ایھا الذین آمنوا اوفوا بالعقود اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان بھی ہے المسلمون علی شروطهم۔ لہذا اگر ایرانی پیٹرول سرکاری قوانین اور کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی کے بغیر اسمگل کر کے لایا جاتا ہے تو یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس سے پاکستان کی جو معیشت ہے اس کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ٹھیک ہے؟ اس کے علاوہ اس میں قانون شکنی بھی ہے، دھوکہ بھی ہے، دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ لیکن اگر وہی پیٹرول قانونی طریقے سے درآمد کیا جائے تو تمام ضروری محصولات ادا کیے جائیں۔ تجارت شفاف ہو تو اس کی خرید و فروخت میں کوئی مضائقہ کوئی حرج نہیں ہے۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ اس میں شریعت کے بنیادی مزاج کو مدنظر رکھا جائے۔ اور ایک غلط کام دوسرے غلط کام کے لیے دلیل نہیں بنتا۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ

