سوال 7442
السلام علیکم!
میرے ذہن میں کافی عرصے سے یہ سوال ہے:
کیا سعودی عرب میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریدی گئی چیز، مثلاً کھانا، کھانا جائز ہے؟ مثال کے طور پر SNB بینک کے کریڈٹ کارڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں 0% سود ہے، لیکن انٹرنیٹ پر پڑھا ہے کہ اس میں ایک مقررہ منافع (Profit) ہوتا ہے، جو حرام ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ میرے والد بل وقت پر ادا کرتے ہیں یا نہیں۔ میں خود کریڈٹ کارڈ استعمال نہیں کرتا، میرے والدین کرتے ہیں۔ میں عموماً ڈیبٹ کارڈ استعمال کرتا ہوں، تو کیا یہ درست ہے؟
کیونکہ میں نے سنا ہے کہ کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا حرام ہے۔
اسی طرح پاکستان میں اگر کوئی شخص کسی روایتی (Conventional) بینک کا ڈیبٹ کارڈ استعمال کرے، اگرچہ ممکن ہے کہ اس کے کچھ معاملات شریعت کے مطابق ہوں، لیکن مجھے یقین نہیں ہے۔ تو کیا اس کارڈ کے ذریعے خریدی گئی چیز، مثلاً کھانا، ہمارے لیے حلال ہوگا؟
نوٹ: مجھے بالکل معلوم نہیں کہ میرے والد کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی وقت پر کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر میں ان سے پوچھوں تو ممکن ہے وہ بتائیں اور ممکن ہے نہ بتائیں۔ فرض کریں کہ انہوں نے وقت پر ادائیگی نہیں کی اور اس پر سود عائد ہوگیا، تو کیا اس صورت میں اس پیسے سے خریدا گیا کھانا بھی حرام ہوجائے گا؟
اور مجھے یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ میں اپنے والدین کو اس بارے میں کیسے سمجھاؤں، کیونکہ اگر میں انہیں کہوں گا تو وہ پوچھیں گے کہ تم نے یہ بات کس سے پوچھی ہے؟
اسی وجہ سے میں کچھ بھی نہیں کھا رہا، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ کسی حرام لین دین کے ذریعے خریدا گیا ہے۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
کریڈٹ کارڈ کے استعمال سے گریز کرنا ہی بہتر ہے، کیونکہ یہ بینک سے قرضہ لینے کے ہی مترادف ہے۔ ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے میں حرج نہیں۔
خود اپنے معاملات میں احتیاط کریں، جہاں شبہ ہے اور ان سے دوری اختیار کرنا ممکن ہے، جیسا کہ دوست احباب، تو ان سے گریز کریں۔
لیکن دوسروں کے بارے میں سوچتے رہنا کہ کسی نے ادائیگی کہاں سے کی؟ کیسے کی؟ پیسے حلال تھے یا حرام… شریعت نے ہمیں معاملات میں اس قدر ٹوہ لگانے کا حکم نہیں دیا.
جہاں تک اپنے والدین کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے تو سوال میں فکرمندی سے زیادہ وہم کی صورت حال ظاہر ہو رہی ہے.
سائل کو چأہیے یا تو والدین سے ایک مناسب اور اچھے طریقے سے مسئلہ ڈسکس کر لیں. اور انہیں علمائے کرام کے حوالہ جات بتا دیں، تاکہ اگر کہیں کوئی قابل اصلاح چیز ہے تو اصلاح کر لی جائے، یا اگر کوئی غلط فہمی ہے تو وہ دور ہو جائے۔
یا پھر چپ کر کے اپنے والدین پر اعتماد کریں۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

