سوال 7531
دین اسلام میں عورتوں کے جلسے اور تبلیغی پروگرام؟
تحریر
شیخ علامہ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ تعالیٰ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آخر میں یہ سوال ہوا کہ کیا کسی عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ مخصوص و معین اسلامی دعوتی سرگرمیوں میں ملوث و متحرک ہو؟
جواب:
میں ایک ناصح اور خیرخواہ کی حیثیت سے کہتا ہوں کہ : بے شک عالم اسلامی کے مصائب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عورتیں یہاں تک کہ مسلمان عورتیں، بلکہ پردہ دار خواتین بھی، اور اس سے بڑھ کر بعض سلفی بہنیں بھی اپنے گھر سے نکل پڑتی ہیں
اس چیز کی طرف جو ان کے وظائف میں سے نہیں۔ کیونکہ عورتوں کے لیے اسلامی دعوتی سرگرمی کا کوئی وجود نہیں؟
اس کی سرگرمیاں اس کے گھر میں، گھر کی دہلیز کے اندر اندر ہیں۔ عورت کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مردوں کی مشابہت اختیار کرے،
اور اسی طرح مسلمان عورت کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ وہ مسلمان مرد کی مشابہت اختیار کرے۔
مسلمان عورتیں اگر اسلام کی کماحقہ خدمت کرنا چاہتی ہیں تو وہ اپنے گھر میں کریں۔
عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ نکلے، اور ساتھ ساتھ یہ بھی جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر پر یہ شرط عائد کرے کہ وہ بیوی شادی کے بعد بھی لازماً اسلامی دعوتی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہے گی۔
اس کی سابقہ دعوتی سرگرمیاں اگر بالفرض مطلقاً جائز بھی ہوتیں تو پھر بھی وہ کنواری باکرہ لڑکیوں کی حالت سے مناسبت رکھتی ہیں کہ جن پر کوئی مسئولیت و ذمہ داریاں نہیں ہوتیں۔
اب جبکہ وہ گھر والی ہوگئی ہیں جس پر اپنے شوہر کی جانب سے واجبات ہیں اور جو اللہ تعالی اسے اولاد عطاء فرمائے گا ان کی طرف سے بھی، لہذا یہ بالکل ایک بدعی امر ہے کہ اب اس کی زندگی میں ذمہ داریوں کا اضافہ ہوگیا ہے۔ اور یہ سب بھی اس وقت جب ہم یہ مفروضہ بنائیں کہ سابقہ شرط جائز تھی حالانکہ درحقیقت ہم اس کے مطلق جواز کے قائل ہی نہیں۔
صحابیہ عورتیں رضی اللہ عنہن جو علمی اور ثقافتی وغیرہ اعتبار سے ایک نمونہ تھیں۔ لیکن ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے کسی عورت نے اسلامی (دعوتی) سرگرمی وغیرہ کی قیادت مردوں کے مابین شروع کردی ہو۔
لیکن جب آپ یہ سنتے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا گھر سے باہر نکلی تھیں (اس کی کیا توجیہ ہے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ) عائشہ رضی اللہ عنہا ایسے مسئلے اور فتنہ میں باہر نکلی تھیں جو وقوع پزیر ہوا کہ اس میں نکلنے کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ مسلمانوں کے لیے خیر کا باعث ہوگا،
مگر درحقیقت ایسا نہ تھا۔ اور بلاشبہ علماء اسلام نے یہی حکم بیان فرمایا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا اس نکلنے کے بارے میں غلطی پر تھیں۔ اور ان کا واقعہ جمل وغیرہ میں خطبہ غلطی تھی،
لیکن یہ خطاء ان کی دیگر حسنات کی وجہ سے مغفور (معاف) تھیں۔
البتہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ آپ رضی اللہ عنہا کی اس غلطی میں پیروی کرے جبکہ آپ رضی اللہ عنہا نے خود اس سے توبہ کرلی تھی، اور مزید یہ کہ ہم ان کی باقی حیات میں (دوبارہ) ایسا نکلنا اور ایسا کوئی خروج بالکل نہیں جانتے۔
چنانچہ وہ خاص ماحول تھا جس میں ان کی جانب سے خاص اجتہاد تھا لیکن اس کے باوجود یہ اجتہادی غلطی ہی تھی۔
البتہ آپ دیکھتے ہیں عورت کو کہ کسی (دعوتی طور پر) سرگرم مرد کی مانند آنا جانا لگایا ہوا ہے اور بسا اوقات تو بعض ان میں سے اکیلے سفر تک کر جاتی ہیں جو کہ اسلام میں حرام سفر ہے (جیساکہ حدیث میں ہے کہ) :
’’لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ لَهَا‘‘([1])
(عورت کے لئے سفر جائز نہیں الا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی محرم ہو)۔
تو آپ ان عورتوں کو پائیں گے کہ اسلام کی جانب دعوت کے نام پر گھر سے باہر اکیلے سفر کررہی ہیں۔
لیکن فی الواقع اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ مرد اس چیز کو ادا نہیں کررہے جو ان پر واجب ہے، تو اسی لیے یہ خلاء دیکھ کر بعض عورتوں پر یہ خیال گزرا کہ ہم پر یہ ضروری ہے
کہ اس خلاء کو پر کریں۔
پس ہم مردوں کو چاہیے کہ فریضہ دعوت کو فہماً، عملاً، تطبیقاً اور دعوتاً ادا کریں اور عورتوں کو ان کے گھروں میں ٹکنے کا پابند بنائیں،
اور وہ اس واجب کو ادا کریں جو ان کے رشتہ داروں، اولاد، بھائیوں اور بہنوں وغیرہ کی تربیت کے تعلق سے ان پر ہے۔
البتہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ ان عورتیں میں سے کچھ پڑوسنیں ایسی جگہ پر جو عورتوں کے لیے خاص ہو
جمع ہوں اور ایسی مناسب و دھیمی آواز سے جو اس مکان کے مناسب حال ہو
جہاں وہ بیٹھیں ہوئی ہیں (تعلیم وغیرہ دیں)۔
جبکہ جو کچھ ہم آج کل مشاہدہ کر رہے ہیں تو میرا اعتقاد ہے کہ اس کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں،
اگرچہ بعض اسلامی جماعتیں خواتین کی ایسی تحریکوں کو اسلام کے نام پر منظم کریں۔ میرا یہ اعتقاد ہے کہ یہ دین میں نئے کاموں (بدعات) میں سے ہے۔
اور آپ لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان یاد ہوگا
بلکہ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ آپ اسے حفظ کرلیں:
’’وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ‘‘([2])
(اور دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے بچو، کیونکہ بے شک دین میں ہر نیا کام بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی آگ میں ہے)۔
اور ہم اتنی ہی بات پر کفایت کرتے ہیں۔
سبحانك اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك۔
[1] یہ حدیث مختلف الفاظوں کے ساتھ
صحیح بخاری 1087
صحیح مسلم 1339
اور دیگر کتب احادیث میں مروی ہے،
جن میں سے بعض میں تین دن، بعض میں دو اور بعض میں مطلقا ًسفر کا ذکر ہے۔ (توحید خالص ڈاٹ کام)
[2] صحیح ترمذی 2676 ،
صحیح ابی داود 4607 وغیرہ۔
ترجمہ: طارق بن علی بروہی
مصدر: کیسٹ ’’الزواج في الإسلام‘‘۔
دعاؤں کا طالب
احسان الٰہی اولکھ
فیصل آباد
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ محترم! اوپر شیخ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی خواتین کے جلسوں کے بارے میں ایک تحریر موجود ہے۔ براہِ کرم اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے جو تحریر فرمائی ہے، وہ کتاب و سنت کی روشنی میں درست ہے یا اس میں کوئی غلطی ہے؟ ان کی اس تحریر کے بارے میں مختصر وضاحت فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر یہ اصل تحریر جو کسی کتاب میں ہے، اس کو بھی یہاں ذکر کر دیا جائے تو زیادہ اچھا ہوگا۔ اس سے اطمینانِ قلب زیادہ ہوگا۔ اصل تحریر سامنے ہونی چاہیے۔
دوسرا یہ ہے کہ شیخ کی بات درست ہے۔ البتہ جو آخری بات شیخ نے کی ہے کہ علاقائی سطح پر کسی گھر میں خواتین جمع ہو کر خواتین کو نصیحت کریں، بس ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ تعلیم لے بھی سکتی ہے، تعلیم دے بھی سکتی ہے؛ وعظ کر بھی سکتی ہے، وعظ و نصیحت سن بھی سکتی ہے۔
ہاں، البتہ سفر اسے بغیر محرم کے نہیں کرنا چاہیے۔ سفر اور چیز ہے۔ علاقائی سطح پر اپنے کام کرنا، یہ درست ہے۔
«إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لَكُنَّ أَنْ تَخْرُجْنَ لِحَوَائِجِكُنَّ»
اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے کہ تم اپنی ضرورت کے تحت گھر سے نکل سکتی ہو، پر پردے کے ساتھ نکلنا چاہیے۔
بات واضح ہے سو فیصد اگر کوئی عقیدہ رکھے کہ نہیں عورت کے لیے بس صمّ و بکم بن کر زندگی گزارنا ہے، تو یہ بھی درست نہیں ہے۔
اور جو تجاوز ہو رہا ہے، ویڈیوز کی شکل میں، آڈیوز کی شکل میں، اور بڑے بڑے مجمعے روڈوں پر سجا کر عورتیں نعتیں پڑھ رہی ہیں، تقریریں کر رہی ہیں، یہ تو واقعی غلط ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




