سوال 7540
السلام عليكم و رحمة الله و بركاته
امید کرتا ہوں کہ تمام مشائخ خیریت سے ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو ہمیشہ خوش و خرم رکھے۔
میرا سوال یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہو گئی اور دونوں نے آگے نیا نکاح کر لیا اب خاوند کا نیا رشتہ ٹھیک چل رہا ہے لیکن جس عورت نے آگے شادی کی تھی وہاں بھی اس کی علیحدگی ہو گئی اس صورت میں کیا یہ عورت اپنے پہلے خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتی ہے؟ رہنمائی فرما دیں بارک اللہ فیک
جواب
وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
جی کسی اور جگہ نکاح کے بعد وہ خاوند طلاق دے دے یا فوت ہو جائے تو عدت گزارنے کے بعد عورت پہلے خاوند سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔
فضیلۃ العالم حافظ خضر حیات حفظہ اللہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر تو طلاق رجعی (پہلی یا دوسری طلاق)ہوئی تھی اور بغیر رجوع کے عدت گزر گئی جس کی وجہ سے آگے نکاح کیا پھر تو بالاولی نکاح جائز ہے پہلے خاوند سے۔
[البقرة : 232]
وَاِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعۡضُلُوۡهُنَّ اَنۡ يَّنۡكِحۡنَ اَزۡوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوۡا بَيۡنَهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِؕ ذٰ لِكَ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ مِنۡكُمۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِؕ ذٰ لِكُمۡ اَزۡکٰى لَـكُمۡ وَاَطۡهَرُؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ ۞
اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو انہیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں یہ نصیحت انہیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر یقین و ایمان ہو اس میں تمہاری بہترین صفائی اور پاکیزگی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
لیکن اگر تین طلاقیں ہی ہوگئی تھیں پھر بھی مذکور صورت میں دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔
[البقرة : 230]
فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنۡۢ بَعۡدُ حَتّٰى تَنۡكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهٗ ؕ فَاِنۡ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ اَنۡ يَّتَرَاجَعَآ اِنۡ ظَنَّآ اَنۡ يُّقِيۡمَا حُدُوۡدَ اللّٰهِؕ وَتِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لئے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کرلینے میں کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے، یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جنہیں وہ جاننے والوں کے لئے بیان فرما رہا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
فضیلۃ الباحث ابو زرعہ احمد بن احتشام حفظہ اللہ




