سوال 7437
السلام علیکم و رحمۃ اللہ، شیخ ایک مسئلے میں وضاحت فرمائیے گا کہ اگر کوئی بزرگ شخص بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے نہیں رکھ سکا تھا تو وہ رمضان کے بعد ان کے بدلے فدیہ دے رہا تھا کچھ وقفے سے ، لیکن فدیہ مکمل کرنے سے پہلے ان کا انتقال ہو جائے، تو باقی رہ جانے والے روزوں کا کیا حکم ہوگا؟
کیا گھر والے باقی دنوں کا فدیہ ادا کریں گے، یا کسی گھر والے کو ان کی طرف سے روزے رکھنے ہوں گے؟ براہِ کرم اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں۔
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
بات یہ ہے کہ رمضان اس کی زندگی میں آیا اور وہ بیماری کی وجہ سے روزے نہیں رکھ سکا، ٹھیک ہے۔ تو وہ روزے اس کی زندگی میں اس کے ذمے آگئے، اس کی گردن پر آگئے، اس کے کندھے پر آگئے۔
اب وہ فدیہ دے رہا تھا اور اسی دوران اس کا انتقال ہوگیا، تو جو باقی ماندہ روزے ہیں، اس کی دو صورتیں ہیں:
ایک تو یہ ہے کہ ولی یا وارث چاہیں تو اس کی طرف سے روزے رکھ لیں۔
اور اگر روزے نہیں رکھ سکتے تو پھر فدیہ جاری رہے اور باقی فدیہ پورا کر دیں، بلکہ یک مشت بھی فدیہ ادا کر دیں، تو بات ختم ہو جائے گی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

