سوال 7551
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیوخِ کرام! ہمارے خاندان میں اکثریت بریلوی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتی ہے اور معاشرے میں بھی زیادہ تر لوگ اسی طبقے سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں بعض ساتھی ہمیں جنازہ پڑھنے سے روکتے ہیں اور خود بھی ایسے افراد کے جنازے میں شرکت نہیں کرتے۔
ہمارے خاندان کے عزیز و اقارب جب فوت ہوتے ہیں تو بعض لوگ یہ کہہ کر ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کرتے کہ وہ اہلِ حدیث نہیں تھے بلکہ فلاں مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ ایسے رشتہ داروں کے جنازے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا اور جنازے میں شرکت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز کن صورتوں میں کسی مسلمان کی نمازِ جنازہ سے اجتناب کیا جا سکتا ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، دو ٹوک جو بات ہے، جو فیصلہ ہے، جو فتویٰ ہے، وہ آپ نے واضح کر دیا۔ قرآن کی آیت ہے کہ اہلِ شرک کے لیے استغفار نہیں ہے، یعنی نمازِ جنازہ نہیں ہے۔
لیکن ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں دعوتی پہلو بھی دیکھنا پڑتا ہے، رشتہ داریاں بھی دیکھنی پڑتی ہیں، اور سب سے زیادہ خطرہ یہ ہوتا ہے کہ دعوت کے میدان میں کہیں لوگ تنفر کا شکار نہ ہو جائیں۔
تو اس اعتبار سے کوشش اور عزیمت کا راستہ یہی ہے کہ ہم انکار کریں، شریک نہ ہوں اور اس کو زیادہ اچھالیں نہیں، بس خاموشی سے علیحدہ رہیں۔ ہم خانہ پُری کے طور پر جا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ صبر کریں، تعزیت کر لیں، زیادہ سے زیادہ ہو سکتا ہے دعائے مغفرت نہ کریں۔
اور اگر زیادہ خدشہ ہے کہ ہم دعوت کا کام کر رہے ہیں، کچھ لوگ ہماری طرف مائل ہیں اور ممکن ہے کہ شریک نہ ہونے کی وجہ سے وہ ہم سے دور ہو جائیں گے، تو پھر رسمِ دنیا نبھانے کے لیے اگر آپ کھڑے ہو جاتے ہیں اور اپنے لیے دعائیں کرتے ہیں، تو آپ سے کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ نے کیا پڑھا۔ تو ایسا بھی ممکن ہے بعض صورتوں میں۔
اور کبھی کبھی ایسی صورتِ حال ہو جاتی ہے کہ انسان کو وہاں جماعت کے اندر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
جیسے میں ایک جنازہ پڑھانے گیا تو سامنے سے بھی ایک صاحب آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: یہ میرے رشتہ دار ہیں، جنازہ میں پڑھاؤں گا۔ وہ دوسرے مکتبہ فکر سے تھے، بدعقیدہ تھے۔ میں نے کہا: وصیت میرے نام ہے، تو پہلے میں پڑھا رہا ہوں، پھر آپ پڑھا لیجیے گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے
اب ظاہر سی بات ہے، میں نے جنازہ پڑھایا، وہ سارے میرے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔ جب انہوں نے جنازہ پڑھایا تو مجھے بھی رکنا پڑا۔
تو حالات کو دیکھ کر فیصلہ کریں۔ دعا تو نہیں ہے، لیکن آپ کھڑے ہو جائیں، اپنے لیے دعا کریں۔ حکمت کے تحت اس کی گنجائش ہے، اگر کوئی صورت نہ بنے انکار کی، پھر ایسا کر لیں۔
جزاکم اللہ خیراً
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




