سوال 7552
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ اگر ماں باپ پہلی شادی زبردستی کسی لڑکی سے کر دیں جس کو بندہ پسند نہ کرتا ہو اور اس کے ساتھ دل بھی نہ لگے۔ تو بندہ دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہو اپنی پسند کا تو کیا ماں باپ سے اجازت لینا ضروری ہے۔
کیا وہ باہر ماں باپ سے چوری نکاح کر سکتا ہے؟
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
لڑکا خود اپنا ولی ہوتا ہے، وکیل ہوتا ہے۔ دوسری شادی کی اجازت بھی ہے، لیکن دوسری شادی کو نبھانا آسان نہیں ہے۔
تو اگر وہ والدین کی رضامندی میں اپنی رضا کو قربان کر دے اور اس پر راضی ہو جائے تو یہ سب سے بہتر راستہ ہے۔ اللہ بھی راضی ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔
اور اگر دوسری شادی کرنی ہے تو جواز موجود ہے، اجازت کی حاجت نہیں، لیکن والدین اگر ناراض ہوتے ہیں تو پھر فیصلہ والدین کے حق میں ہوگا، بچے کے نمبر کم ہوتے ہیں۔ اس بات کو سمجھ لیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ




