سوال 7554

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال تھا کہ جن احادیث میں یہ ذکر ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں معراج کی رات آسمان پہ گیا مجھے جہنم دکھائی گئی میں نے اس میں دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جو زنا کرتے تھے کوئی شرابی ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ جو غیبت کرتے تھے تو سوال میرا یہ تھا کہ ابھی تو قیامت کا دن نہیں آیا لیکن پھر وہ جو سزائیں وہ کن لوگوں کو مل رہی تھی اس کے بارے میں رہنمائی چاہیے۔
ابھی تک تو لوگ اپنی قبروں میں ہیں ان کے جو جسم ہیں تو پھر سزائیں ان کے روح کو مل رہی ہیں اس کے بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
جزاک اللہ خیرا

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
واقعہ معراج اول تا آخر ایک معجزہ ہے، اور معجزہ انسانی عقل کو عاجز کر دیتا ہے، صرف ایمان کا تقاضا کرتا ہے، بس۔

«آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا»

وہ عالمِ تمثیل ہے۔ اللہ نے جو چاہا، اپنے نبی کو دکھا دیا۔ کچھ ماضی کے لوگ تھے اور کچھ آنے والے لوگ تھے۔ ماضی کا مسئلہ تو بات سمجھ میں آ رہی ہے، اور جو آنے والے تھے، ان کے ساتھ جو ہوگا، وہ بتا دیا گیا۔
تو چیز ہوتی کہیں ہے، دکھائی کہیں جاتی ہے، اور آج تو یہ بڑا آسان ہوگیا ہے سمجھنا۔
لہٰذا عالمِ تمثیل میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا، وہ دکھا دیا، اور وہ اس اعتبار سے مبنی بر حقیقت تھا کہ نبی کریم ﷺ کی معراج برحق ہے۔
تو بس اتنا کافی ہے ہمارے لیے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
پہلی بات:
الله تعالیٰ قادر مطلق ہیں اور جو چاہیں اور جیسا چاہیں کرنے پر پوری طرح قدرت رکھتے ہیں ۔
دوسری بات:
یہ احوال معجزہ سے تعلق رکھتے ہیں جیسے انبیاء کرام علیھم السلام کو مسجد اقصی میں جمع فرمانا معجزہ تھا ۔
تیسری بات:
قرآن کریم میں اہل دوزخ کا ذکر ہوا ہے جن میں ان اہل دوزخ کا ذکر بطور خاص ہے جو پہلے جرم کا یوں اعتراف کریں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے،ہم مساکین کو کھانا نہیں کھاتے تھے تفصیل سورۃ المدثر میں دیکھ سکتے ہیں ۔
تو علم الیقین کے ساتھ عین الیقین کا اظہار ہوا تھا تا کہ لوگ آخرت میں کفر و فسق کی سزاوں اور برے انجام کے متعلق سن کر سچی توبہ کر لیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہو کر جنت کا راستہ اختیار کریں ۔
اس لئے قرآن کریم میں قوموں پر آنے والے عذاب،ان کی آخروی سزاوں اور برے انجام کا ذکر ب
جہاں بیان ہوا وہیں پر الله علیم و خبیر نے قبل از وقت ہی بدکردار لوگوں کے اخروی انجام کا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو آنکھوں سے حال دکھا دیا تا کہ علم الیقین کے ذریعے آخرت کے منکر عین الیقین کے ذریعے ہی تسلیم کر لیں اور اتمام حجت پوری طرح قائم ہو جائے اور کوئی عذر نہ تراش اور پیش کر سکے۔
والله أعلم بالصواب

فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ

سائل: شیخ پھر جو روحوں کا تعلق ہے کہ مرنے کے بعد جنتی لوگوں کی روحوں کو پرندوں میں ڈال کر جنت میں چھوڑ دیا جاتاہے اور جہنمی لوگوں کی روحوں کی بھی ملاقات ہوتی ہے۔
ایسا سنا تھا اس کی بھی رہنمائی فرما دیں۔
جواب: السلام علیکم!
یہ بات پہلے ہو چکی ہے کہ عِلِّیِّیْن ایک فضیلت والی اور مقرب جگہ ہے، یا یوں کہیں کہ جنت ہے، تو نیک روحیں وہاں جاتی ہیں۔ جو یہاں سے فوت ہو کر وہاں جائے گا، وہ دوسروں سے ملاقات کرے گا۔
جہنمیوں کے بارے میں شریعت خاموش ہے۔ وہ سِجِّین میں جاتے ہیں۔ وہاں بھی ملاقات تو ہوگی یقیناً، جو جہنم میں جائیں گے، اللہ محفوظ رکھے، لیکن اس کا تذکرہ نہیں ملتا کہ وہ آپس میں حال احوال کرتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے عذاب اور پریشانی میں ہیں۔ اللہ محفوظ رکھے۔
جہاں تک یہ بات ہے کہ روح پرندوں کے پوٹوں میں ڈال دی جاتی ہے اور وہ جنت میں چگتے چکھتے ہیں، تو یہ شہداء کے لیے ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ