سوال 7700

کچھ قبائل کے لوگ جیسے قلاش قبیلہ وغیرہ میت کے ساتھ زیورات بھی دفنا دیتے ہیں۔
ان زیورات کے نکالنے کا شرعی حکم بتادیں؟
میت کی بھی کوئی توہین نہیں اور یہ قبائل بھی غیر مسلم ہیں۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، وہ غیر مسلم ہیں، اب ہم انہیں کیا کہہ سکتے ہیں؟ ہمیں تو انہیں اسلام کی دعوت دینی چاہیے، بس یہی ہماری ذمہ داری ہے۔
جہاں تک زیورات کا معاملہ ہے تو میت کے ساتھ کوئی بھی قیمتی چیز دفن کی گئی ہو، اسے نکال لینا چاہیے۔
ہمارے پاس اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ نبیِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مال کی بربادی کو پسند نہیں فرماتا۔ یعنی «إِضَاعَةَ الْمَالِ» اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ

سائل: تو کیا اس طرح کے زیورات کو تدفین کے طور پہ بعد میں نکالنا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے؟
جواب: دیکھیں، اگر فتنے کا اندیشہ نہ ہو، قبریں پرانی ہو چکی ہوں اور کوئی شخص بعد میں وہ جگہ لے لیتا ہے، تو پھر اس وقت زیورات نکالنے کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔ ورنہ تو ایسا کرنے والا قبرستان کا چور کہلائے گا، اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے اور لوگ جذبات میں آ کر، اللہ نہ کرے، اسے مار بھی سکتے ہیں۔ لہٰذا ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے۔
لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیں کہ میت کے ساتھ قیمتی مال دفن کرنا مال کی بربادی ہے اور یہ جائز نہیں۔ لیکن یہ کیا بات ہے کہ کوئی شخص زیورات دفن کرکے جائے اور ہم خود قبر کھود کر نکال لیں؟ یہ بھی جائز نہیں ہے۔
البتہ اگر کوئی شخص بعد میں وہ جگہ خرید لیتا ہے، جہاں پرانا قبرستان تھا، اور وہاں بلڈوزنگ کے دوران کوئی دفینہ نکل آتا ہے، تو وہ الگ صورت ہے؛ اس وقت جو کچھ نکلے گا، وہ اس کے کام آ سکتا ہے۔ لیکن محض زیورات نکالنے کے لیے کسی کی قبر کھودنا درست نہیں ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ