سوال 7694
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص کسی دوسرے کو اپنا گھر فروخت کرتا ہے ۔۔۔ جو خریدار ہے وہ گھر کی قیمت ادا کرنے کے لیے بینک سے سودی قرض لیتا ہے اور انہی پیسوں سے گھر خریدتا ہے۔۔۔
تو کیا ایسے سود لینے والے شخص کو گھر فروخت کرنا جائز ہے؟؟؟
جبکہ خریدار معترف ہے کہ یہ پیسے سودی بینک کا قرض ہے۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دل کا تقویٰ ایک الگ چیز ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے طور پر ایسے معاملے، کاروبار یا خرید و فروخت سے بچنا چاہے تو یہ الگ بات ہے، لیکن اس معاملے میں فتویٰ یہ نہیں ہے کہ گھر فروخت کرنا ناجائز ہے۔
کیونکہ گھر فروخت کرنے والا براہِ راست کسی بھی طرح بینک کا مقروض نہیں ہے، تو خریدار پیسے کہاں سے لاتا ہے، یہ بیچنے والے کا مسئلہ نہیں ہے۔ لہٰذا اسے گھر فروخت کیا جا سکتا ہے۔
البتہ یہ ضروری ہے کہ گھر فروخت کرنے والے کا نام بینک کی کسی بھی لکھا پڑھی میں نہ آئے اور نہ ہی وہ بینک کا مقروض ہو۔ وہ صرف خریدار کو گھر یا پلاٹ فروخت کر رہا ہے، اور خریدار رقم کہاں سے لاتا ہے، یہ اس کا اپنا معاملہ ہے۔
لہٰذا اس صورت میں گھر فروخت کرنا جائز ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
سائل: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ۔۔۔۔۔
یہ قاعدہ کیا یہاں نہیں ہوگا ۔۔؟؟
جزاک اللّه خیراً کثیراً
جواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
نہیں شیخ محترم، ایسا نہیں ہوگا۔ دیکھیں، آپ کوئی بھی کاروبار کرتے ہیں، تو آپ کے پاس لوگ آتے ہیں۔ کیا آپ ان سے پوچھتے ہیں کہ آپ کس طرح کا پیسہ لے کر آئے ہیں؟ یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ سارا مسئلہ یہ ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیخ صاحب! میں اس میں ایک اور مثال کے ذریعے اضافہ کرنا چاہوں گا۔ ایک آدمی سود خور یا رشوت خور ہے اور وہ کسی دکاندار کے پاس جا کر کہتا ہے کہ مجھے فلاں چیز چاہیے، تو محض اس بنا پر دکاندار اسے سودا فروخت کرنے سے انکار نہیں کر سکتا کہ خریدنے والا سود خور یا رشوت خور ہے، یا اس کا ذریعۂ آمدن ایسا ہے جو شرعی طور پر حرام ہے۔
البتہ ایک بات، جس کی طرف آپ نے ما شاء اللہ اشارہ فرمایا ہے، یہ ہے کہ اگر مکان بیچنے والا خود کسی بھی طریقے سے سود کے معاملے میں ملوث ہے تو پھر یہ معاملہ درست نہیں ہوگا۔
باقی آپ نے وضاحت فرما دی کہ اگر کوئی انسان تقویٰ کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ سمجھ کر کہ یہ آدمی بینک سے سودی قرض لے رہا ہے، اس کے ساتھ لین دین نہیں کرتا تو یہ اس کا تقویٰ ضرور ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ اس کے لیے مکان فروخت کرنا حرام ہے، درست نہیں ہوگا۔
اسی طرح اگر کسی شخص کو معلوم ہو کہ جو آدمی اس سے پراپرٹی خرید رہا ہے، وہ اس جگہ شراب خانہ، رقص گاہ یا بینک بنائے گا، تو پھر اس معاملے کا حکم مختلف ہو سکتا ہے۔
بارک اللہ فیکم۔
فضیلۃ الشیخ عبدالرزاق زاہد حفظہ اللہ




