سوال 7699
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص نے 20 سال پہلے غیرت کے نام پر لڑکی اور لڑکے کو قتل کر دیا تھا اور انھے اسی طرح دفنا دیا تھا ۔ آج وہ شخص اپنی غلطی پر شرمندہ ہے اور وہ کہتا ہے کہ مجھ سے گناہ ہوا ہے ایک تو اب ہمیں کیا کرنا چاہیے کس طرح ہماری رب کے ہاں معافی ہو گی.
اور ہمیں انکا جنازہ بھی پڑھنا چاہیے ۔اس حوالے سے ہماری راہنمائی فرما دیں۔
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے، کیونکہ سزاؤں کا نفاذ حاکمِ وقت کی ذمہ داری ہے۔ ہمارے لیے صبر ہی کا راستہ ہے۔ اب جو ہونا تھا، وہ ہو گیا۔ ہم کسی کو مایوس نہیں کرتے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ﴾
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ سو آدمیوں کے قاتل کو بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں بخشا جا سکتا ہے، بس اس کی توحید سلامت ہو۔
لہٰذا اگر وہ موحد ہے تو سچے دل سے توبہ کرے، مسلسل توبہ و استغفار کرتا رہے اور نیکیوں میں اضافہ کرے۔ ان شاء اللہ، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ اسے خود بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی کسی کو اسے مایوس کرنا چاہیے۔
جنازے کی اب حاجت نہیں ہے، وقت گزر گیا ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




