سوال 7571
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
شیوخِ کرام! ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عرب لوگ سفر کے دوران ایک دوسرے کی خدمت کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی ایک آدمی تھا جو ان دونوں کی خدمت کرتا تھا۔ ایک مرتبہ دونوں سو گئے، پھر جب بیدار ہوئے تو دیکھا کہ اس آدمی نے ان کے لیے کھانا تیار نہیں کیا تھا۔ دونوں نے کہا کہ یہ شخص تو بہت زیادہ سونے والا ہے۔
چنانچہ انہوں نے اسے جگایا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور کہنا کہ ابوبکر اور عمر آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور آپ سے سالن یعنی کھانا طلب کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “وہ دونوں تو پہلے ہی سالن کھا چکے ہیں۔”
پھر سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما خود رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے کون سا کھانا کھایا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اپنے بھائی کا گوشت؛ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس وقت بھی تم دونوں کے دانتوں کے درمیان اس کا گوشت دیکھ رہا ہوں۔”
یہ سن کر سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اسے حکم دو کہ وہ تم دونوں کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرے۔”
یہ واقعہ الأحاديث المختارة للضياء المقدسي، جلد 5، صفحہ 71، حدیث 1697 اور تفسیر ابن کثیر، سورۃ الحجرات، آیت:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ﴾
کے ضمن میں مذکور ہے، اور اسے سنداً صحیح قرار دیا گیا ہے۔
ایک مولانا صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا تو ایک سامع نے اعتراض کیا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی غیبت کرتے تھے، اور ان پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اتنا بڑا حکم لگایا گیا۔ اس سے تو ان دونوں جلیل القدر صحابہ کی عظمت پر سوالیہ نشان پیدا ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسے واقعات کو بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے، یا اگر واقعہ صحیح سند سے ثابت ہو تو اسے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں؟ نیز حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے مقام و فضیلت کے ساتھ اس واقعے کی کیا توجیہ ہوگی؟
جواب
وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
میری کم علمی وتحقیق کے مطابق اس روایت کا مرسل و ضعیف ہونا راجح ہے۔
ﻗﺎﻝ ﺃﺑﻮ ﺑﺪﺭ ﻋﺒﺎﺩ ﺑﻦ اﻟﻮﻟﻴﺪ ﺑﻦ اﻟﻐﺒﺮﻱ: ﺛﻨﺎ ﺣﺒﺎﻥ، ﺛﻨﺎ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ، ﺃﻧﺒﺎ ﺛﺎﺑﺖ اﻟﺒﻨﺎﻧﻲ، ﻋﻦ ﺃﻧﺲ ﻗﺎﻝ: ﻛﺎﻧﺖ اﻟﻌﺮﺏ ﻳﺨﺪﻡ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﺑﻌﻀﺎ ﻓﻲ اﻷﺳﻔﺎﺭ، ﻭﻛﺎﻥ ﻣﻊ ﺃﺑﻲ ﺑﻜﺮ، ﻭﻋﻤﺮ ﺭﺟﻞ ﻳﺨﺪﻣﻬﻤﺎ، ﻓﻨﺎﻡ، ﻭاﺳﺘﻴﻘﻈﺎ …….
مساوئ الأخلاق للخرائطي :(180) ،الأحاديث المختارة للضياء من طريق آخر :(1697)5/ 71 ،72
بظاہر اس روایت کی سند صحیح معلوم ہوتی ہے جبکہ یہ روایت اصولا معلول و مرسل ہے
اس روایت کے بعد ہی حافظ مقدسی نے دوسرا طریق یوں بیان کہا ہے :
ﻭﻗﺪ ﺭﻭاﻩ ﻋﻔﺎﻥ ﺑﻦ ﻣﺴﻠﻢ ﻋﻦ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ ﻋﻦ ﺛﺎﺑﺖ ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻟﻴﻠﻰ ﺃﻥ اﻟﻌﺮﺏ ﻛﺎﻧﺖ ﺗﺨﺪﻡ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﺑﻌﻀﺎ ﻓﻲ اﻷﺳﻔﺎﺭ
المختارة للضياء 5/ 72
یہی روایت أبو القاسم قوام السنة ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ اﻟﺼﺎﺋﻎ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﻔﺎﻥ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﺳﻠﻤﺔ، ﺛﻨﺎ ﺛﺎﺑﺖ ﻋﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻟﻴﻠﻰ پر مرسلا لائے ہیں
الترغيب والترهيب لقوام السنة :(2231)
اور أبو الشيخ التوبيخ والتنبيه:(249) میں مرسلا لائے ہیں اسباط عن السدی کے طریق سے
اور یہ معلوم ہے کہ عفان بن مسلم حماد بن سلمہ سے روایت میں اضبط و أثبت ہیں
حبان بن ھلال کی نسبت تفصیل تاریخ بغداد وغیرہ میں ملاحظہ کریں تو علی الراجح یہ روایت مرسل ہے اور اسے موصول بیان کرنے میں عبادت بن ولید سے خطاء ہوئی ہے۔
اور متن میں تنقیص و نکارت ہے اور اضطراب بھی ہے گو بعض نے تاویل کی ہے مگر روایت ہی معلول و مرسل ہے۔
هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




