سوال 7573
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
کیا سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 6 کے تحت صرف اعضائے اربعہ پر وضو سے نماز پڑھی جا سکتی ہے؟
اور غسل جنابت میں مسنون طریقہ کے بغیر اگر غسل کر لیا جائے تو کیا وہ غسل نماز کیلئے کافی ہوگا؟
کسی نہر کا ٹیوب ویل چھلانگ مار کر ڈائریکٹ نہانے سے غسل جنابت ھو جائے گا؟
جواب
وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته
قرآن کریم اور حدیث دونوں وحی ہیں اور دونوں کی حفاظت کا ذکر رب العالمین نے فرمایا ہے۔
قرآن کریم کی تشریح،تفسیر،تعبیر و بیان رب العالمین نے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے قول و عمل سے کروایا ہے۔
اجمال کی تفصیل احادیث صحیحہ میں موجود ہے۔
جیسے نماز ،روزہ،زکوۃ ،حج و عمرہ طہارت کے احکام ومسائل کی تفصیل رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ذریعے بیان کروائی گئی ہے۔
یہاں بھی ہم اس مسئلہ کی مکمل تفصیل وبیان قرآن کریم کے ساتھ احادیث صحیحہ سے میں گے رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے عمل و تعلیمات سے لیں گے کیونکہ جس طرح قرآن کریم پر ایمان ہم رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے بتانے پر لائے ہیں اسی طرح ہم قرآن کریم کی تفسیر و توضیح بھی ہم رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم سے میں گے اور اس پر ایمان رکھیں گے۔
یہ تو غلط ہے کہ جن ذریعے سے قرآن ملا اسے تو قرآن مانیں اور انہیں کے ذریعے وحی کی دوسری قسم جو اصلا قرآن کریم کی ترجمان وتفسیر ہے اسے نظر انداز کریں یا ماننے سے انکاری ہو جائیں۔
یاد رکھیں ہم رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی حدیث و سنت کے بغیر قرآن کریم پر عمل نہیں کر سکتے ہیں نہ ہی ہمارا ایمان قابل قبول ہے۔
اس لئے وضو کا مکمل طریقہ صاحب وحی ،صاحب قرآن سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے لیں کہ وہی پہلے مفسر قرآن،ترجمان قرآن ہیں۔
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سورۂ مائدہ ہو یا قرآن کا کوئی بھی حصہ ہو، صاحبِ قرآن سے قرآن سکھایا جائے گا۔ اس قرآن کا اثبات اور ثبوت بھی صحیح سند کا مرہونِ منت ہے، اور اسی صحیح سند سے احادیث ہم تک پہنچی ہیں، جو قرآن کا بیان ہے۔
مگر کوئی ایسا کرتا ہے کہ بھئی، میں نے تو یہاں سے چار فرائض لے لیے ہیں۔ یہ بھی اس کا خود ساختہ ایک نظریہ ہے کہ یہ چار فرائض ہیں۔ قرآن نے ان چار باتوں کو فرض نہیں کہا ہے۔
اور اگر وہ اس طریقے سے وضو کرے کہ صرف چار اعضاء کو دھو کر وضو کرتا ہے، تو نہ اس کا وضو ہے نہ اس کی نماز ہے۔ کیونکہ بغیر وضو کے نماز کا کوئی تصور نہیں، اور ایسا وضو اسلام میں ہے ہی نہیں جو اس نے کیا ہے۔
وہ لاکھ دعویٰ کرے کہ قرآن کا منکر نہیں ہے، صاحبِ قرآن کا منکر ہے۔ قرآن کی وضاحت صاحبِ قرآن نے کر دی ہے۔ اور یہ آج نہیں اترا ہے کہ جس سے کوئی پریشانی ہو رہی ہے؛ پندرہ سو سال ہو گئے ہیں اس بات کو۔
صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ، محدثین، کروڑہا علماء کرام، کہ نعوذ باللہ ان کو کیا بیوقوف سمجھا جا رہا ہے؟
تو ایسے لوگوں کی سخت قسم کی سرکوبی کرنی چاہیے جو حدیث کے منکر ہیں۔ کیونکہ بغیر حدیث کے اس قرآن کو، اس کے اعراب کو، اس کے معنیٰ کو اور نماز کی تعداد کو ثابت نہیں کر سکتے۔ ان کے لیے سوال یہ ہے۔
باقی رہ گیا کہ غسلِ جنابت میں مسنون طریقہ چھوڑ دیں، تو بعض علماء اس کی اجازت دیتے ہیں، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ نبی علیہ السلام نے جو بتایا ہے، اس کے مطابق وضو کریں، اور اسی کے مطابق غسل کریں۔
پھر آپ مسنون طریقہ کو پا لیں گے اور پھر جا کر آپ کو طہارت حاصل ہوگی۔
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، سورۂ مائدہ میں وضو کا ایک طریقہ بتایا گیا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے یہ لازم ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ سورۂ مائدہ کب نازل ہوئی تھی۔ سورۂ مائدہ سن پانچ یا چھ ہجری میں نازل ہوئی، زیادہ روایات چھ ہجری کی ہیں۔
اور نماز کب فرض ہوئی تھی؟ معراج میں۔ اس سے پہلے بھی نماز پڑھی جاتی رہی ہے، بلکہ
﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا﴾
میں جو
﴿فَاقْرَؤُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ﴾
کی آیات ہیں، وہ ساری نماز کے لیے ہیں۔
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نبوت کے پہلے سال سے لے کر ہجرت کے چھٹے سال تک، تقریباً 19 سال تک، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کون سے وضو کے ساتھ نماز پڑھتے رہے؟ وہ وضو کیا تھا؟
یہ حجیتِ حدیث پر بہت بڑی دلیل ہے۔ اگر قرآن کی بات کرتے ہو تو قرآن نے وضو کا طریقہ تو پہلی وحی کے 19ویں سال بتایا تھا۔ تو جب ہمارے پاس ایک چیز موجود ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا 19 سال کا ایک طریقہ، تو وہ طریقہ ہمارے پاس ہر اعتبار سے حتمی و قطعی ہے۔
البتہ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ قرآن نے ان چار اجزاء کو کیوں بتایا؟ یا ان چار اجزاء میں جو ترتیب ہے، وہ وضو والی ترتیب نہیں ہے۔ یہ ایک الگ سوال بن سکتا ہے۔
لیکن سورۂ مائدہ کی آیت نمبر 6 میں جو چار افعال وضو کے بتائے گئے ہیں، صرف انہی پر وضو کسی صورت میں بھی کافی نہیں ہو سکتا۔
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیض الابرار شاہ حفظہ اللہ




