سوال 7689

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص پاکستان سے عمرہ کے لیے جاتا ہے ایک دفعہ تو اس نے احرام میقات سے باندھ لیا تھا۔ اب اگر وہ دوبارہ عمرہ کرنا چاہتا ہے تو وہ احرام کہاں سے باندھے گا۔

جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
احرام شرعی میقات ہی سے باندھنا چاہیے۔ وہیں سے نیت اور تلبیہ ہونا چاہیے، یہی احرام ہے اور وہیں سے احرام کی پابندیاں شروع ہو جائیں گی۔ لہٰذا یہی افضل طریقہ ہے۔
البتہ اگر کوئی مکہ میں رہتے ہوئے دوسرے عمرے کے لیے حل کی طرف چلا جاتا ہے، مثلاً مسجد عائشہ، تنعیم یا جعرانہ، اور وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کر لیتا ہے تو بعض علماء اس کے جواز کے قائل ہیں، کیونکہ وہ حدودِ حرم سے نکل کر حل میں گیا اور وہاں سے احرام باندھا۔
لیکن اولیٰ، افضل اور دلائل پر مبنی طریقہ یہی ہے کہ آپ طائف چلے جائیں اور واپسی پر قرن المنازل سے احرام کی نیت کرکے آئیں، یا مدینے سے آتے ہوئے ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں۔ یہ شرعی میقات ہیں، اس لیے انہی کی پابندی کرنا بہتر اور افضل ہے۔
حِل سے مراد وہ علاقہ ہے جو حدودِ حرم اور میقات کے درمیان واقع ہے۔

فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ