سوال 7679
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
(جس نے جن کی مشابہت کی وہ ان میں سے ہے)
آج کل کئی علماء نعت کے اشعار بھی گانوں کی طرز میں پڑھتے ہیں ان کے بارے میں رہنمائی فرما دیں.
جزاکم اللہ خیر واحسن الجزاء فی الدنیا و الآخرہ
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
دیکھیں، شعر گوئی، نعت، حمد و ثناء جائز ہے، لیکن ایک حد کے اندر رہ کر ہونی چاہیے، اس میں بہت زیادہ آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
اس حوالے سے چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس میں شرک، بدعت، خرافات اور غلو نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح واہیات اور تہذیب سے گرے ہوئے جملوں سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ آج کل یہ جو گانوں اور قوالی کے طرز پر پڑھنے کا سلسلہ چل رہا ہے، یہ درست نہیں ہے۔ اس کی اجازت صرف ایک محدود حد تک ہے، لہٰذا اس میں اتنا آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔
سلف صالحین سادہ انداز میں پڑھا کرتے تھے، اس لیے اسی انداز تک محدود رہنا چاہیے۔
اور اس طرح کی کاپیاں بنا بنا کر، نقلیں اتار اتار کر اور نقال پیدا کرکے آخر دین کی کون سی خدمت ہو رہی ہے؟
فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں شیخ کی بات میں اضافہ کرنا چاہوں گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میدان کا راہی بنایا ہے جہاں یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ الحمدللہ، تجوید و قراءت سے بھی تعلق ہے۔
اللہ تعالیٰ شیخنا و والدنا، شیخ ابراہیم میر محمدی حفظہ اللہ کو دین و ایمان والی لمبی عمر عطا فرمائے۔ ان کے قدموں میں بیٹھ کر بھی کچھ حاصل کیا ہے۔
جب میں حفظ کا امتحان لینے یا کسی جگہ مہمان بن کر جاتا ہوں تو لوگ کہتے ہیں: ہمارے بچے کا قرآن سنیں، یہ فلاں کی طرز پر پڑھتا ہے۔ میں بچے سے پوچھتا ہوں: بیٹا! آپ کی اپنی طرز کیا ہے؟ تو آگے سے بچہ خاموش ہو جاتا ہے۔
گزارش یہ ہے کہ ہم نے گانوں کی طرز پر نعتیں بنائیں اور پڑھیں۔ سوال یہ ہے کہ گانوں کی طرز کس نے بنائی؟ جن لوگوں نے خود اپنی طرزیں بنائیں، تو آپ بھی نعت کی طرز اپنے طور پر بنا لیں۔
میں ایک ایسی آبادی میں رہتا ہوں جہاں جمعرات کے دن عصر کی نماز کے بعد اگر آپ چھت پر چڑھیں تو تقریباً تیس مساجد کے اسپیکر کھلے ہوتے ہیں اور وہاں یہی کام چل رہا ہوتا ہے۔ یقین جانیے، الفاظ تو سمجھ میں نہیں آتے، لیکن سماعت سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ گانے چل رہے ہیں۔
لہٰذا، جیسا کہ آپ نے فرمایا، اس طرزِ عمل سے مکمل پرہیز کرنا ضروری ہے۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ
سائل: جزاکم اللہ خیرا
لیکن آج کل تو بڑے بڑے علماء اور وہ بھی اہلحدیث بھی اس طرف چل پڑے ہیں اور پھر انتظامیہ بھی کہتی ہے کہ لوگ انہیں کو سنتے ہیں اس لیے انہیں بلایا جاتا ہے تو کیسے اس سے بچا جائے کئی نامور علماء اہلحدیث بھی اس میں شامل ہیں؟
جواب: السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرے عزیز! اصل میں اسی چیز کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم بھیڑ چال نہ چلیں۔
اللہ کا شکر ہے کہ مجھے وطنِ عزیز پاکستان میں آئے ہوئے 25 واں سال ہے۔ ان 25 سالوں میں، میں نے ایک بھی ایسا پروگرام نہیں کروایا جس میں برانڈڈ ہستیوں کو بلایا جائے، جن کے ناز نخرے بہت زیادہ ہوں۔ میں صرف اور صرف اہلِ علم کو بلاتا ہوں۔
تین نام لوں گا: فضیلۃ الوالد الشیخ حافظ محمد شریف، فضیلۃ الوالد الشیخ حافظ مسعود عالم اور فضیلۃ الوالد الشیخ ارشاد الحق اثری۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ، جب ان کے دروس کروائے تو حاضری مثالی تھی۔
اصل بات یہ ہے کہ ہم تماشائی اکٹھے کرنا چاہتے ہیں، سامعین نہیں۔ سامعین وہ ہوتے ہیں جو گفتگو سنیں اور اس بات پر غور نہ کریں کہ بیان کرنے والا کون ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ میری مسجد کا یہ ماحول بن چکا ہے۔ ہمارے کچھ اساتذہ کرام ایسے ہیں جنہیں شاید آپ بھی نہیں جانتے ہوں گے۔ وہ گمنام ہیں، لیکن علم کے سمندر ہیں۔ مثلاً میرے استادِ محترم الشیخ محمد رمضان السلفی حفظہ اللہ، جن سے ہم نے 1994ء میں صحیح مسلم پڑھی۔ آج سے 31، بلکہ 32 سال پہلے کی بات ہے۔ وہ علم کے سمندر ہیں۔ میں نے انہیں درس کے لیے بلایا تو اللہ کے شکر سے حاضری مثالی تھی اور لوگ ہمہ تن گوش ہو کر سن رہے تھے۔
اسی طرح میرے استادِ محترم الشیخ زید احمد زاہد حفظہ اللہ، جو بیت العتیق، خیابانِ اقبال، لاہور میں شیخ الحدیث ہیں، ان کا بھی میں نے درس کروایا۔
یہ تبدیلی ہم نے خود لانی ہے۔ اصل میں پیسہ ہے، پیسے کی چکا چوند ہمیں آرام سے بیٹھنے نہیں دیتی۔
آپ سالانہ پروگرام کروانے کے بجائے ایک ماہانہ درس رکھیں۔ اس کا ایک موضوع مقرر کریں، جو فرقہ واریت سے بالاتر ہو، اور کسی عالمِ دین یا شیخ الحدیث کو بلائیں۔ آدھا گھنٹہ، 35 منٹ، 40 منٹ یا زیادہ سے زیادہ 45 منٹ گفتگو ہو، اس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ ہو۔
پھر آپ دیکھیے گا کہ دعوت پر کیسے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
فضیلۃ الشیخ عبد الرزاق زاہد حفظہ اللہ




