سوال 7494
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
غزوۂ ہند کے متعلق حدیث کی سند کیسی ھے؟ غزوہ ہند پر صحیح سند سے کونسی روایت ثابت ہے؟
جواب
وعليكم السلام و رحمة الله و بركاته
اس باب کی جمیع روایات معلول ومنکر ہیں
حدیث ثوبان جو التاریخ الکبیر للبخاری:6/ 72،73،الجھاد لابن ابی عاصم :(288)،طبرانی اوسط:(6741)،السنن الکبریٰ للبیھقی:(18600) وغیرہ میں ہے بظاہر حسن معلوم ہوتی ہے
مگر ﻋﺒﺪ اﻻﻋﻠﻰ ﺑﻦ ﻋﺪﻯ اﻟﺒﻬﺮاﻧﻰ کے ثوبان رضی الله عنہ سے سماع میں نظر ہے
کیونکہ اس راوی کی ان شیوخ سے روایت ہے جو سن 60 ھ کے بعد فوت ہوئے جیسے عبد الله بن عمرو اور ان سے اس کی روایت منقطع ہے
اور ثوبان رضی الله عنہ 54 ھ میں فوت ہوئے
اور یہ راوی 104 ھ میں فوت ہوئے
یعنی سیدنا ثوبان کی وفات کے وقت یہ چھوٹے بچے ہوں گے پھر یہ ان سے روایت میں معروف بھی نہیں ہیں ۔
اور سیدنا ثوبان کے جو کثیر الصحبۃ،کثیر الروایۃ شاگرد ہیں وہ ثقات یہ روایت بیان نہیں کرتے ہیں تو جب تک کوئی قرینہ و دلیل سماع پر نہیں ملتی ہے تو ہم توقف کریں گے اس روایت پر حکم لگانے میں ۔
والله أعلم بالصواب
فضیلۃ العالم ابو انس طیبی حفظہ اللہ




