سوال 7712

میت کو غسل کا مسنون طریقہ بھی بتادیں۔ آج کل بہت سے طریقے مارکیٹ میں عام ہیں۔
جو مسنون طریقہ ہے وہ بھی بتادیں شکریہ۔

جواب

میّت کو غسل دینے کا مسنون طریقہ وہی ہے، جو عام طور پر غسل کیا جاتا ہے، بس اہتمام میں کچھ فرق ہے، طریقہ وہی ہے، کہ سب سے پہلے اس کی استنجاء کروائی جائے، اگر پیشاب یا پاخانہ وغیرہ خارج ہو تو غسل دینے والا اپنے ہاتھ پر کپڑا یا دستانہ لپیٹ کر میت کی شرمگاہ کو آگے اور پیچھے سے صاف کرے اور نجاست کو دور کر دے، اس دوران ناف سے گھٹنے تک میت کے جسم کو ڈھانپ کر رکھا جائے اور حتی الامکان ستر کی طرف نظر نہ کی جائے، اس کے بعد میت کو وضو کروایا جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے غسل کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل دینے والی خواتین سے فرمایا:

ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا

اس کے دائیں جانب اور وضو کے اعضاء سے غسل کا آغاز کرو
(صحیح البخاری حدیث نمبر: 167)
لہذا پہلے وضو کے اعضاء دھوئے جائیں، منہ اور ناک کی صفائی بھی کی جائے، تاہم میت کے منہ اور ناک میں اس طرح پانی نہ ڈالا جائے جیسے زندہ شخص وضو میں کرتا ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے پانی واپس نکالنا ممکن نہ ہوگا، کوشش کریں، اگر ایسا ہوجائے تو ٹھیک ورنہ گیلا کپڑا یا روئی استعمال کر کے انہیں صاف کیا جائے، پھر سر اور کانوں کا مسح کیا جائے اور اس کے بعد پاؤں دھوئے جائیں، بیری کے پتوں (سدر) ملے ہوئے پانی سے میت کو غسل دیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو غسل دینے والی خواتین سے فرمایا:

اغْسِلْنَهَا ثَلاَثًا، أَوْ خَمْسًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ، بِمَاءٍ وَسِدْرٍ

اسے تین مرتبہ، یا پانچ مرتبہ، یا اس سے زیادہ مرتبہ، اگر تم مناسب سمجھو، پانی اور سدر کے ساتھ غسل دو
(صحیح البخاری حدیث نمبر: 1253)
غسل کرتے وقت پہلے دائیں جانب پانی بہایا جائے، پھر بائیں جانب، اور اس کے بعد پورے جسم پر پانی بہایا جائے، تاکہ جسم کا کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے، آخر غسل میں پانی میں کافور شامل کر کے غسل دیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وَاجْعَلْنَ فِي الأَخِيرَةِ كَافُورًا

اور آخری غسل میں کافور شامل کرنا
(صحیح البخاری حدیث نمبر: 1253)
کافور ایک خوشبودار مادّہ ہے، جس سے خوشبو بھی حاصل ہوتی ہے اور میت کے جسم پر اس کے مناسب اثرات بھی ہوتے ہیں، اگر میت کو ایک مرتبہ غسل دینے سے صفائی حاصل ہو جائے تو اصل غسل ادا ہو جاتا ہے، غسل دینے والی خواتین یا مردوں کو ایک، تین، پانچ یا ضرورت کے مطابق اس سے بھی زیادہ طاق مرتبہ غسل دینے کا اختیار دیا گیا
خواتین کے بالوں کی آخر میں تین چٹیاں بنائی جا سکتی ہے
(صحیح ابن حبان حدیث نمبر: 3033)
نیز میاں بیوی ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں
(سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 1464)
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ