سوال 7711
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
میت کے کفن کے متعلق رہنمائی فرما دیں۔
مرد کے کفن کے 3 کپڑے ہیں اور عورت کے کفن کے 5 کپڑے ہوتے ہیں۔ اور کفن پہنانے کا طریقہ بتادیں۔
شکریہ
جواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عورت کو بھی زیادہ سے زیادہ تین ہی کپڑوں میں کفن دینا چاہیے۔
علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
وَالْمَرْأَةُ فِي ذَلِكَ كَالرَّجُلِ، إِذْ لَا دَلِيلَ عَلَى التَّفْرِيقِ.
اس مسئلہ میں عورت بھی مرد کی طرح ہے، عورت اور مرد کے کفن میں فرق کی کوئی دلیل موجود نہیں
(أحكام الجنائز : 65/1)
ضرورت کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سے کم کپڑوں سے کم میں بھی کفن دیا ہے اور بعض اوقات ایک کفن میں دو دو افراد کو بھی دفن کیا گیا ہے۔ لیکن مستحب اور پسندیدہ عمل تین چادروں میں کفن دینا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تین چادروں میں کفن دیا گیا، تین کپڑوں سے زائد کپڑوں میں کفن دینا ثابت نہیں، احرام والے شخص کو احرام کی دو چادروں میں ہی کفن دیا جائے گا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا جن میں کرتہ، تہبند اور عمامہ شامل نہیں تھا
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 4621)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ احرام کی حالت میں ایک شخص کی گردن اس کے اونٹ نے توڑ دی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور دو کپڑوں میں اسے کفن دو۔ اس کے سر اور چہرہ کو مت ڈھانپو۔ یہ قیامت کے دن تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا۔
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 5621)
اور وہ دو کپڑے وہی تھے جن میں اس نے احرام باندھا تھا۔
(سنن نسائي حدیث نمبر : 5091)
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے اور صرف ایک چادر میں ان کو کفن دیا جا سکا
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 4721)
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی چادر چھوٹی تھی، جب ان کا سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو سر ننگا ہو جاتا۔آخرکار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ان کا سر ڈھانپ دو اور قدموں پر گھاس ڈال دوسیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُحد کے شہداء کو دو دو افراد کے جوڑوں میں ایک ہی کپڑے میں کفن دیا، اور ان کے خون آلود کپڑوں سمیت دفن کرنے کا حکم دیا۔ نہ انہیں غسل دیا گیا اور نہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔‘‘
(صحیح البخاري حدیث نمبر : 3431)
المختصر کفن دو کپڑوں میں بھی دینا ثابت ہے ایک میں بھی تین میں بھی اس حوالے سے کوئی کوئی مقدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر نہیں کی البتہ پسندیدہ عمل تین کپڑوں میں کفن دینا ہے کوئی کیونکہ امام الانبیاء محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تین کپڑوں میں ہی کفن دیا گیا تھا، اس سے زائد کفن دینا درست نہیں.
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ




