سوال 7719
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال تھا کہ جو گڑیا وغیرہ یا اور ایسی چیزیں جو جاندار کی طرح ہوتی ہیں اس کی تجارت کیسی ہے؟
جواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته
چھوٹے بچوں کیلئے کھلونے رکھنے کی اجازت ہے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَتْ: وَكَانَتْ تَأْتِينِي صَوَاحِبِي. فَكُنَّ يَنْتَقِعْنَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیاؤں سے کھیلتی تھیں، کہا: اور میری سہیلیان میرے پاس آتی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (آمد کی) وجہ سے (گھر کے کسی کونے میں) چھپ جاتی تھیں، کہاتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو (بلاکر) میری طرف بھیج دیتے تھے۔
[صحیح مسلم حدیث نمبر: 6287]
جب کھیلنا جائز ہے تو تجارت بھی جائز ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں کہتے ہیں:
وَاسْتُدِلَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَلَى جَوَازِ اتِّخَاذِ صُوَرِ الْبَنَاتِ وَاللَّعِبِ مِنْ أَجْلِ لَعِبِ الْبَنَاتِ بِهِنَّ، وَخُصَّ ذَلِكَ مِنْ عُمُومِ النَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الصُّوَرِ، وَبِهِ جَزَمَ عِيَاضٌ وَنَقَلَهُ عَنِ الْجُمْهُورِ، وَأَنَّهُمْ أَجَازُوا بَيْعَ اللُّعَبِ لِلْبَنَاتِ لِتَدْرِيبِهِنَّ مِنْ صِغَرِهِنَّ عَلَى أَمْرِ بُيُوتِهِنَّ وَأَوْلَادِهِنَّ
اس حدیث سے یہ دلیل لی گئی ہے کہ بچوں کے کھیلنے کیلئے گڑیا اور کھلونوں کی تصویر اور شکل بنانا جائز ہے، اسے تصاویر کی عام ممانعت سے خاص کیا گیا ہے، قاضی عیاض نے یہ بات ٹھوس الفاظ میں کہی ہے اور اس موقف کو جمہور سے نقل کیا ہے، اور انہوں نے بچوں کے کھیلنے کیلئے گڑیا فروخت کرنا جائز قرار دیا ہے تاکہ بچوں کی بچپن سے ہی امور خانہ داری اور اولاد کی دیکھ بھال کرنے کی تربیت ہو۔
[فتح الباری بشرح البخاری: 10/527]
حرام جانوروں کی تصاویر والوں سے بچنا چاہیے، ان کھلونوں میں بندروں، شیروں، کتوں اور خنزیروں کی شکل و صورت کے کھلونے رکھنا ایک مسلمان کی شان کے خلاف ہے، مغربی تہذیب سے وابستہ لوگ اس قسم کے حیوانات سے پیار کرتے ہیں، مسلمان گھرانوں کو ان سے پاک ہونا چاہیے، حرام جانوروں کی تصاویر والوں سے بچنا چاہیے، حلال جانوروں کی ہو تب کوئی حرج نہیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَوْ خَيْبَرَ وَفِي سَهْوَتِهَا سِتْرٌ فَهَبَّتْ رِيحٌ
فَكَشَفَتْ نَاحِيَةَ السِّتْرِ عَنْ بَنَاتٍ لِعَائِشَةَ لُعَبٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ قَالَتْ: بَنَاتِي وَرَأَى بَيْنَهُنَّ فَرَسًا لَهُ جَنَاحَانِ مِنْ رِقَاعٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا الَّذِي أَرَى وَسَطَهُنَّ؟ قَالَتْ: فَرَسٌ، قَالَ: وَمَا هَذَا الَّذِي عَلَيْهِ؟
قَالَتْ: جَنَاحَانِ، قَالَ: فَرَسٌ لَهُ جَنَاحَانِ؟ قَالَتْ: أَمَا سَمِعْتَ أَنَّ لِسُلَيْمَانَ خَيْلًا لَهَا أَجْنِحَةٌ؟ قَالَتْ: فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک یا خیبر سے آئے، اور ان کے گھر کے طاق پر پردہ پڑا تھا، اچانک ہوا چلی، تو پردے کا ایک کوناہٹ گیا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیاں نظر آنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میری گڑیاں ہیں، آپ نے ان گڑیاؤں میں ایک گھوڑا دیکھا جس میں کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے، پوچھا : یہ کیا ہے جسے میں ان کے بیچ میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولیں: گھوڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے؟ وہ بولیں: دو بازو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں؟ وہ بولیں، کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کا ایک گھوڑا تھا جس کے بازو تھے، یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ کی داڑھیں دیکھ لیں۔
[سنن ابی داؤد حدیث نمبر: 4932]
یہ اجازت فقط چھوٹی بچی کیلئے کھیلنے کی ہے، گھروں میں سجانے کیلئے نہیں۔
ھذا ما عندي والله اعلم بالصواب
فضیلۃ العالم حافظ محمد عبداللہ حفظہ اللہ




