سوال 7721
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں
وراثت کی تقسیم مطلوب ہے
رقبہ: 4 مرلے
مالیتی رقبہ: ایک کروڑ 50 لاکھ روپے (15,000,000/-)
نوٹ: والدین زندہ موجود ہیں(اولاد ماں باپ کو تنگ کرتی ہے کہ اپنی زندگی میں ہی ہمارا حصہ ہمارے نام لگا دیں)
ایک بھائی اور پانچ بہنیں
ایک بھائی دوسری والدہ سے ہے۔
*والدہ جو زندہ نہ ہے-
(ہر ایک کا حصہ زمین سے بھی اور رقم سے بھی درکار ہے)
جواب
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
زندگی میں ترکے، میراث اور وراثت کی تقسیم کا معاملہ نہیں ہوتا۔ اگر والد صاحب اپنی خوشی سے اولاد کو کچھ دینا چاہتے ہیں تو انہیں مجبور نہ کیا جائے اور اس طرح دباؤ ڈال کر اپنے گناہوں میں اضافہ نہ کیا جائے۔
اگر والد صاحب ہدیۃً یا تحفۃً کچھ دینا چاہتے ہیں تو عمومی اصول یہی ہے کہ
«اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ»
یعنی اپنی اولاد کے درمیان برابری کریں۔
وہ اپنے لیے جو چاہیں رکھ سکتے ہیں، وہ مالک ہیں۔ اگر تھوڑا بہت تقسیم کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، لیکن یہ ہدیہ اور ہبہ ہوگا، میراث نہیں۔
جو افراد فوت ہو چکے ہیں، ان کی وراثت کا معاملہ الگ ہے، جبکہ جو زندہ ہیں، ان کی ملکیت کے بارے میں الگ دیکھا جائے گا۔ شوہر اپنی بیوی کو جو چاہے دے سکتا ہے، وہ اس کا مالک ہے۔
لہٰذا اولاد کو سمجھایا جائے کہ ابھی وراثت کی تقسیم کا معاملہ نہیں ہے۔ اگر والد صاحب اپنی خوشی سے ہبہ یا تحفہ دیں تو اسے قبول کر لیا جائے، البتہ اولاد کو برابری کی سطح پر دیا جائے۔
فضیلۃ الشیخ عبدالوکیل ناصر حفظہ اللہ




